انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 36 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 36

تفسیر حضرت خلیفۃ المسح الثالث ۳۶ سورة السجدة ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا ہے کہ جو اس دنیا میں اندھا ہے وہ اگلے جہان میں بھی اندھا ہوگا یعنی وہ نابینائی اور اندھا پن جس کے نتیجہ میں انسان اللہ تعالیٰ کی وحی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے انقلاب کو دیکھنے اور اس سے فائدہ اُٹھانے سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کی قوتوں کو وہ کمال حاصل نہیں ہو سکتا جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تمہیں کان دیئے ہیں جن سے تم میری وحی کوسن سکتے ہو میں نے تمہیں آنکھیں دی ہیں جن سے تم اپنی بصارت اور بصیرت کے نتیجہ میں میری آیات کو دیکھ سکتے ہو۔میں نے تمہیں ایسا ذ ہن عطا کیا ہے کہ کان اور آنکھ کے ذریعہ سے جو علم تم حاصل کرتے ہو اس سے وہ صحیح نتیجہ نکال سکتا ہے گویا انسان ان قومی کے ذریعہ اپنے کمال کو پہنچ سکتا ہے ہر فرد اپنے کمال کو پہنچ سکتا ہے، ہر قوم اپنے کمال کو پہنچ سکتی ہے۔بنی نوع انسان اپنے کمال کو پہنچ سکتے ہیں۔مسلمان قرآن کریم کے پہلے مخاطب ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انہیں غیروں سے ممتاز کرنے کے لئے فرقان بخشا ہے۔اسلام مسلمان سے وعدہ کرتا ہے کہ اگر وہ قرآنی تعلیم پر عمل کرے گا اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت حاصل کرے گا اللہ تعالیٰ کا حقیقی بندہ بن جائے گا اور اس کی عبادت کے تمام تقاضوں کو پورا کرے گا تو پھر اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی لازوال محبت اسے ملے گی جو کسی غیر کومل ہی نہیں سکتی۔لیکن باوجود اس کے کہ ہم نے تمہیں غیر سے ممتاز کیا ہے پھر بھی قلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ تم میں سے بہت تھوڑے ہیں جو میرے شکر گزار بندے بنتے ہیں۔ویسے تو قرآن کریم کے مخاطب تمام بنی نوع انسان ہیں لیکن قرآن کریم جب اپنے مخاطب سے بات کر رہا ہو یا اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے ذریعہ اپنے بندے سے بات کر رہا ہو تو کبھی وہ ایک گروہ کو اور کبھی وہ دوسرے گروہ کو مخاطب کر لیتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہم اس کے ایک معنی یہ بھی کر سکتے ہیں کہ مسلمان کو مخاطب کر کے کہا جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَنْدَةَ تمہیں کان دیئے ،تمہیں آنکھیں دیں اور تمہیں دل دیا کہ تم اللہ تعالیٰ کی تعلیم کو سنو اس کے نشانوں کو دیکھو اور پھر صحیح نتیجہ اخذ کرو۔اپنی قوتوں اور استعدادوں کی کماحقہ نشوونما کر کے اللہ تعالیٰ کے قرب کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرو تم بڑے ہی خوش بخت انسان ہو جنہیں اسلام جیسا مذہب ملا ، اس پر عمل کرنے کی تو فیق ملی اور اس پر عمل پیرا ہونے کا جو انعام ہے یعنی محبت الہی وہ تمہیں نصیب ہوئی۔لیکن اے وہ بد بخت انسان جس نے قرآن کریم کی آواز پر لبیک نہیں کہا تو کتنا بد بخت ہے فطرت کی آواز پر تو نے کان