انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 458 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 458

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث رحمہ اللہ تعالی ۴۵۸ سورة الجمعة آتی ہیں ایک یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے فعل اور قول میں تضاد نہیں ہے اور مخالفت نہیں ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔ایک تو عقلاً ان میں تضاد نہیں ہو سکتا اور دوسرے حقیقتا نہیں ہے کیونکہ اگر خدا تعالیٰ کے فعل میں اور اس کے قول قرآن کریم میں تضاد ہوتا تو مد صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم پر عمل کر کے خدا تعالیٰ کی صفات کے مظہر اتم نہیں بن سکتے تھے۔خدا تعالیٰ نے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ میں یہ نشان دکھایا کہ آپ کا صفات باری کا مظہر اتم بن جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا تعالیٰ کے فعل اور اس کے قول میں کوئی تضاد نہیں ہے اور ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ تم شیطانی وساوس کو اپنے دل سے نکال کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلو تو تم بھی اپنی قوت و استعداد کے مطابق خدا تعالیٰ کی صفت کے مظہر بن جاؤ گے اور ہر وہ شخص جو قرآنی تعلیم پر عمل کر کے اور اسوۂ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر کے خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنتا ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا تعالیٰ کے فعل اور اس کے قول میں کوئی فرق نہیں ہے۔کوئی تضاد نہیں ہے، کوئی اختلاف نہیں ہے۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحہ ۴۶۶ تا ۴۷۳) اس واسطے يُسَبِّحُ لِلهِ مَا فِي السَّبُوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ جو بادشاہ بھی ہے اور پاکیزگی مجسم اور پاکیزگی کا سرچشمہ اور منبع اور سب خوبیوں کا جامع اور غالب اور حکمت والا اور قرآن کریم کو ہر زمانہ کے لئے نئی سے نئی حکمتوں سے معمور کر دینے والا ہے، هُوَ الَّذِي بَعَثَ في الأمينَ رَسُولًا مِّنْهُم الله تعالیٰ کے متعلق پہلی آیت میں ذکر کا یہ اعلان کیا وہ اللہ جس کی تسبیح کر رہے ہیں مَا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وہ خدا جو بادشاہ بھی ہے، پاک بھی ، سب خوبیوں کا جامع بھی ہے، غالب اور حکمت والا بھی اس خدا نے بَعَثَ فِي الْأُمِنَ رَسُولًا مِّنْهُمْ امیوں میں سے ہی دنیوی لحاظ سے ان پڑھ لوگوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کے بھیج دیا اُمّی میں سے رسول اور رسول وہ جو رسولوں کا سرتاج جو خاتم الانبیاء جس کے سامنے ہر ایک نے ہر آن گزشتہ پہلے نبی نے اس کی عظمت کا اقرار کیا اور اس کے مقابلے میں اپنے لاشئے ہونے کا اقرار کیا۔اس اُمّی کے سامنے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمّی ہونا اور آپ پہ جو کلام نازل ہوا اس کا ایک کامل اور مکمل ہونا اور اتمام نعمت کرنے والا ہونا یہ بتاتا ہے کہ یہ کلام جو ہے اس خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے جو اس کی تسبیح کر رہی ہے، ہر وہ چیز جو آسمانوں اور زمیں میں ہے اور جو بادشاہ بھی ہے پاک بھی ہے پاکیزگی کا سرچشمہ بھی ہے۔غلبہ کا مالک بھی ہے اور ہر ایک کو اسی کا غلبہ عطا ہوتا ہے وہ حکیم بھی ہے