انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 457 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 457

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ ۴۵۷ سورة الجمعة بھی ظاہر ہوئی اور یہاں قرآن کریم میں ، اس کے قول میں يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آیتِہ میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی تمام صفات کے مظہر اتم ہیں۔اور آپ کے علاوہ ہر انسان نے اپنی اپنی طاقت اور استعداد کے مطابق خدا تعالیٰ کی صفات کا رنگ اپنی صفات میں پیدا کرنا ہے۔اپنی استعداد سے زیادہ تو وہ نہیں کر سکتا۔پس جب یہ کہا کہ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ التِهِ تو اس میں یہ اعلان کیا کہ دیکھو محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو شریعت لے کر آئے ہیں اس میں تمہارے لئے یہ انتظام کیا گیا ہے کہ تم اپنی استعداد کے مطابق خدا تعالیٰ کی ملک ہونے کی صفت کے زیادہ سے زیادہ مظہر بن سکتے ہو۔پھر خدا تعالیٰ کی قدوس ہونے کی ، پاکیزہ ہونے کی جو صفت ہے وہ یزکیھم میں ظاہر ہوئی۔یہ تو موٹی بات ہے ہر ایک کو سمجھ آ جائے گی کیونکہ یہ معنی کے لحاظ سے برابر ہیں۔وہاں قدوس ہے اور یہاں يُزَكِّيهِمْ ہے۔یزکیھم میں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ پاک ذات ہے اور اس تعلیم پر عمل کر کے تم بھی اپنی استعداد کے مطابق زیادہ سے زیادہ طہارت اور پاکیزگی حاصل کر سکتے ہو۔وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب اور تم خدا تعالیٰ کی عزیز ہونے کی صفت کے مظہر اتم بن سکتے ہو۔خدا تعالیٰ کے اس قول قرآن میں یہ سامان پیدا کیا گیا ہے۔يُعَلِّمُهُمُ الكتب عزیز کے مقابلہ میں آیا ہے۔پس خدا تعالیٰ جو غالب ہے تم اس کے مظہر اتم بن سکتے ہو۔قرآن کریم میں ایک اور جگہ یہ مضمون بیان ہوا ہے جو بہتوں کو سمجھ آ جائے گا۔چنانچہ فرما یا انتم الاعلون (ال عمران: ۱۴۰) کہ تم ہی غالب رہو گے۔یہ انتم الاعلون کیا بتا رہا ہے یہی کہ تم خدا تعالیٰ کی اس صفت کے مظہر بن سکتے ہو کہ وہ عزیز ہے اور کوئی اس کے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکتا۔وہ عزیز اور غالب ہے اور کوئی نہیں جو اس کے منصوبوں کو نا کام کر سکے۔انتم الاعلون تم بھی یہ صفت اپنے اندر پیدا کر سکتے ہو کہ تم پر کوئی غالب نہ آئے اِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ بشر طیکہ تم قرآن کریم کی ہدایت کے تقاضوں کو پورا کرنے والے ہو۔والحكمة یہ بھی لفظی طور پر خدا تعالیٰ کی صفت حکیم کی طرف اشارہ کرتا ہے۔قرآن کریم کی شریعت انسان کو اس کی قوت اور استعداد کے مطابق خدائے حکیم کی صفت حکیم کا مظہر بنانے کے لئے دنیا کی طرف مبعوث ہوئی ہے۔اس سے بہت سے مسائل حل ہوتے ہیں اور بہت سی باتیں سامنے