انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 453
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ ۴۵۳ سورة الجمعة اثر انسان پر نیک اور پاک اور مفید ہے گندہ اور مضر نہیں ہے۔اس لئے جس چشمہ سے وہ نکلی ہیں اس پر بھی اعتراض نہیں کیا جاسکتا اپنے ان اثرات سے وہ یہ ظاہر کر رہی ہیں کہ خدا تعالیٰ پاک ہے یہ ان کی زبان ہے۔قرآن کریم نے دوسری جگہ کہا ہے کہ ہر چیز اس کی حمد کر رہی ہے اور اس کی تسبیح کر رہی ہے لیکن تم ان کی آواز کو نہیں سمجھ سکتے اور ایک آواز یہی ہے۔پتا نہیں اور کتنی آواز میں خدا تعالیٰ نے ان کو دی ہیں۔پس جیسا کہ خدائے قدوس نے کہا تھا تمام اشیاء انسان کی خدمت پر لگی ہوئی ہیں اور دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس سے انسان خدمت نہ لے سکے اور صحیح ذاتی خاندانی اور علاقائی خدمت اور بنی نوع انسان کی خوشحالی اور اس کے اطمینان اور اس کی ترقیات کے لئے ان اشیاء کو کام میں نہ لگایا جاسکے۔خدا تعالیٰ عزیز ہے اور دنیا کی کوئی طاقت ایسی نہیں کہ جو کام خدا تعالیٰ کرنا چاہے اس کے راستہ میں وہ روک بن سکے۔ویسے تو قرآن کریم کی آیات کی تفسیر کے ہزار ہا پہلو ہیں لیکن اس سلسلہ میں ایک پہلو جو بہت نمایاں ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کے علاوہ کسی اور کا مثلاً شیطان کا اثر قبول کرے ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔انسان کو ایک تنگ دائرے میں خدا تعالیٰ نے آزادی دی ہے مگر اس کی حفاظت کے لئے اور اس کو خدا کی طرف واپس لانے کے لئے بڑا عظیم انتظام بھی کیا ہے۔حکم اسی کا چلتا ہے اور اس یو نیورس میں اس عالمین میں اس کے جو احکام جاری ہیں جب ہم ان پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہر حکم خواہ چھوٹا ہو یا بڑا وہ بڑی حکمتوں والا ہے۔پس خدا تعالیٰ العزیز الحکیم ہے۔یہ نہیں کہ وہ صرف عزیز ہے اور حکیم نہیں بلکہ وہ عزیز بھی ہے اور حکیم بھی ہے۔دنیا کا یہ نقشہ پیش کر کے خدا تعالیٰ نے ہمیں بتایا کہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ دنیا کی ہر چیز خدا تعالیٰ کی تسبیح کر رہی ہے اور اس کی بزرگی کو ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہے۔جو کچھ خدا تعالیٰ نے پیدا کیا وہ اس کا فعل ہے۔اس نے اپنی قدرت کا ملہ سے ان اشیاء کو پیدا کیا اور ان پر اپنی صفات کے جلوے ظاہر کئے اور ہر مخلوق میں، ہر شے میں جو اس نے پیدا کی اس نے بے حد و حساب خواص پیدا کر دیئے۔زمانہ تو ہمارے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔خدا تعالیٰ تو بالائے زمانہ ہے جیسا کہ وہ لا مکان ہے۔سو سال پہلے گندم کے دانے میں جو خواص تھے ان سو سالوں کے اندر پتا نہیں ان میں کیا فرق پڑ گیا ہے اور صفات باری نے ان کے اندر کیا تبدیلی پیدا کر دی ہے۔یہ علیحدہ