انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 452 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 452

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ ۴۵۲ سورة الجمعة بات ہے یہ استعمال کرنے والے کی بدی ہے اس شے کی بدی نہیں۔قرآن کریم کا اعلان یہ ہے کہ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجاثيه : ۱۴) یعنی بغیر استثنا دنیا کی ہر چیز کو انسان کی خدمت پر لگایا گیا ہے اگر انسان خود خدمت نہ لے یا غلط خدمت لے لے تو اس میں خادم کا تو قصور نہیں۔خشخاش کا ایک دانہ اور ہمالیہ کا یہ پہاڑ اور سورج کا یہ خاندان (جس میں سے ایک زمین بھی ہے جو سورج سے فائدہ اٹھا رہی ہے ) یہ سب کے سب انسان کی صحیح خدمت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں جو یہ دعوی کر سکے کہ کوئی چیز ایسی بھی ہے جو انسان کی خدمت کی اہلیت نہیں رکھتی اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے خواہ اس کا صحیح استعمال کیا جائے انسان کو اس سے فائدہ نہیں ہو گا۔اس لئے کہ ہم یہ ثابت کریں گے کہ خود دنیا نے تحقیق کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ جن چیزوں کے متعلق بعض لوگوں کو یہ وہم تھا کہ وہ انسان کے فائدہ کے لئے نہیں ہیں ان میں بھی فوائد ہیں۔مثلاً سانپ اور اس کا زہر ہے۔بعض لوگ تو سانپ کا لفظ سن کر بھی چھلانگ لگا کر چار پائی پر چڑھ جاتے ہیں۔اتنا ڈرتے ہیں اس سے لیکن سانپ کے زہر میں بھی انسان کے لئے بے شمار فوائد رکھے ہیں اور انسان نے تحقیق کر کے ان میں سے بعض فوائد کا علم بھی حاصل کیا ہے اور اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔بہت سی ایسی بیماریاں ہیں جن کو ایک وقت میں انسان اپنی جہالت کی وجہ سے قریب لا علاج سمجھتا تھا اور اب طب کی اور شاخوں نے بھی اور ہومیو پیتھک نے بھی سانپ کے زہروں سے ایسی ادویہ بنائی ہیں جو ایسے مریضوں کو بہت فائدہ دیتی ہیں۔اسی طرح لکھی ہے جو کہ ہر وقت تنگ کرتی ہے لیکن مکھی میں انسان کے لئے فائدہ ہے۔ایک موٹا فائدہ جو ہر ایک کو سمجھ آ جائے گا یہ ہے کہ بعض بچے سوکھے“ کے مریض ہوتے ہیں اور بچپن سے نہ ہڈی بڑھ رہی ہوتی ہے اور نہ اس کے اوپر گوشت ہوتا ہے اس کو پنجابی میں سوکھا، کہتے ہیں۔ایسے مریضوں کو اگر مکھی کسی چیز میں لپیٹ کر کھانے کے لئے دی جائے اور وہ اس کو ہضم کر لیں تو یہ سوکھنے کی بیماری کا علاج ہے اور یہ تو ایک فائدہ ہے اس کے اندر اور بہت سے فوائد ہیں۔پس تمام اشیاء خدا تعالیٰ کی صفات سے اثر قبول کر رہی ہیں اور جس غرض کے لئے ان کو پیدا کیا گیا ہے کہ وہ انسان کی خدمت کریں ) اس غرض کو وہ پورا کر رہی ہیں اور اس طرح یہ ظاہر کر رہی ہیں کہ خدا تعالیٰ صرف بادشاہ ہی نہیں بلکہ قدوس بھی ہے کیونکہ دنیا کی تمام اشیاء جو بے حد و بے شمار ہیں ان کا وو