انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 414 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 414

تفسیر حضرت خلیلی امسیح اثاث ۴۱۴ سورة الحديد اور اسی طرح ان کا نور ان کو ملے گا اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ دوزخی ہوں گے۔قرآن کریم کے الفاظ کے جو معانی کئے گئے ہیں ان کی رُو سے لفظ ایمان تین باتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔دل تصدیق کرے، زبان اس کا اعلان کرے اور انسان کا عمل گواہی دے کہ واقعہ میں اس کا دل ایمان لایا ہے اور صداقت کی تصدیق کرتا ہے۔پس ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ اس کا پہلا اور حقیقی تعلق دل کے ساتھ ہے اور دنیا کی کوئی طاقت کسی دل میں ایمان کو داخل نہیں کر سکتی نیز دنیا کی کوئی طاقت کسی دل سے ایمان کو نکال نہیں سکتی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی زندگی پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کے پیار نے اور آپ کے سلوک نے (اللہ تعالیٰ کے اس سلوک کے نتیجہ میں جو آپ سے ہور ہا تھا اور جس کا دیکھنے والی آنکھ مشاہدہ کر رہی تھی اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے دلوں کو اس طرح جیتا کہ صداقت دلوں میں گڑ گئی۔میں نے جو یہ کہا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت دل سے ایمان کو نکال نہیں سکتی اگر واقعی دل میں ایمان ہو اور اس کی مثال صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی ہے۔وہ کون سی مصیبت تھی جس سے وہ دو چار نہ ہوئے ، وہ کون سی ایذاء تھی جو ان کو نہیں پہنچائی گئی ، اتنے دکھ دیئے گئے اور اتنی تکلیفیں پہنچائی گئیں کہ آج بھی جب ہم سوچتے ہیں تو ہمارے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، لیکن وہ صداقت جو ان کے دلوں میں داخل ہو چکی تھی ہر قسم کے دکھ اور ایذا رسانی اور ابتلا نے بھی اس صداقت کو ان کے دلوں سے نہیں نکالا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو بہت دکھ دیا گیا مگر وہ ثابت قدم رہے۔اس سے بہتر مثال انسان کی مذہبی تاریخ میں ہمیں اور کہیں بھی نہیں ملتی۔پس ایمان دل سے شروع ہوتا ہے اسی لئے قرآن کریم نے بار بار بتایا ہے کہ مخالفین کے حربے اس وجہ سے بھی ناکام ہو جاتے ہیں کہ دلوں پر ان کا اثر نہیں ہوتا بلکہ ان کے تکلیف پہنچانے اور ایذارسانی کے منصوبے مومنین کے لئے ایک قسم کی جنتوں کے دروازے کھولنے کا موجب بن جاتے ہیں۔غرض دل سے ایمان شروع ہوتا ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ زبان اس کا اقرار کرے۔حقیقت یہ ہے کہ ایمان باللہ کا محبت الہی اور عشق الہی سے بڑا گہرا تعلق ہے یعنی محض یہ نہیں کہ ایک شخص