انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 378 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 378

تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث ۳۷۸ سورة النجم نے دروازے کھڑکیاں بند کر دیں اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ اثر پیدا کیا کہ وہاں پر اندھیرا کر دیا۔اسی طرح اندھیرے کمرے میں کھڑکیاں دروازے کھولنے کا عمل انسان کا ہے اور اس کے بعد جو روشنی ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے قانون قدرت کے مطابق ہوتی ہے۔پس انسان اپنے دائرہ میں صاحب اختیار ہے اور انسان کا یہ اختیار اور انسان کی یہ آزادی قضا و قدر ہے یعنی خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا اور یہ اندازہ قائم کیا اور مقرر کیا ہے کہ اس حد تک نوع انسانی اپنے دائرہ میں آزا در ہے گی اور نوع انسانی کا ہر فرد اپنے اپنے دائرہ استعداد میں آزادر ہے گا۔ہرانسان کا دائرہ استعداد مختلف ہے مثلاً ہر انسان علم کے حصول میں ایک جیسی ترقی نہیں کر سکتا۔لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلا ما سعی کا اصول تو یہ ہے کہ اجر کے حصول کے لئے تمہارا عمل ضروری ہے اگر تم عمل نہیں کرو گے تو تمہیں اجر نہیں ملے گا۔اس میں جبر کہاں سے ہوا؟ بالکل پوری طرح آزادی کا اعلان کر دیا ہے لیکن ہر شخص دوسرے شخص جیسا اور اتنی عقل والا عمل نہیں کرسکتا۔ہر ایک کا اپنا ایک دائرہ استعداد ہے جو بڑے بڑے موجد ہیں ان کی استعداد اور ہے مثلاً جس نے ایٹم کی طاقت کا علم حاصل کیا ( گو اب اسے غلط طرف لے گئے ہیں ) اس شخص کو خدا تعالیٰ نے اتنی ذہنی طاقت دی تھی کہ وہ اس میدان میں یہ چیز ایجاد کر لیتا یہ ہر شخص کا کام نہیں تھا لیکن یہ طاقت اور قوت اس کو خدا تعالیٰ نے دی تھی۔( خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۳۵۲، ۳۵۳) کوشش کے ساتھ ساتھ اسلام نے دعا کرنے پر بھی زوردیا اور یہ دعا سکھادی رَبَّنَا اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً (البقرة : ۲۰۲) اس دعا میں صرف یہی نہیں کہا کہ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً بلکہ آخرت کی بھلائی کے ساتھ ساتھ دنیا کی بھلائی چاہنے کی بھی دعا سکھلا دی۔ظاہر ہے دُنیا کی حسنات ہم نے دنیوی مخلوقات سے حاصل کرنی ہیں۔انہی سے فائدہ اٹھا کر اپنی آخرت سنوارنی ہے۔اس لئے اسلام نے یہ اعلان کیا کہ مذہب افیون نہیں ہے۔وہ شخص بڑا بیوقوف ہے جو یہ کہتا ہے کہ مذہب اسلام بھی افیون کا کام دیتا ہے۔اسلام نے تو یہ کہا ہے کہ دنیا کی ہر چیز انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہے اور انسان کی خدمت پر لگا رکھی ہے لیکن خدا تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق کہ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سعی کی رو سے انسان کو اتنا فائدہ ملے گا جتنا وہ اسکے لئے کوشش کرے گا۔تب سعيه سَوْفَ يُرای کی رو سے اور عام قانون کے مطابق کوشش نتیجہ خیز ہوگی۔انسان کو محنت کا