انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 377
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۳۷۷ سوره ورة النجم ہے اور سمجھتا ہے میں نے بہت کیا۔کچھ بھی نہیں کرتا اور سمجھتا ہے میں نے کچھ کر لیا۔قرآن کریم میں ایسے لوگوں کا بھی ذکر ہے کہ کرتے کچھ نہیں اور دعوے بڑے کر رہے ہوتے ہیں۔ایسی کمزوریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔پس فرما یا تم انتہائی کوشش کر وجس قدر تم کر سکتے ہولیکن تکبر نہ کرنا۔ہمارا وعدہ یہ ہے کہ تمہاری انتہائی کوششوں کا انتہائی نتیجہ نکلے گا بشرطیکہ تمہاری کوششیں ہماری نگاہ میں بھی انتہا تک پہنچی ہوئی ہوں اور تم اس شرط کو بھی نہ بھولنا۔(خطبات ناصر جلد چہارم صفحه ۲۵ تا ۲۸) دیکھو! قرآن کریم نے ایک جگہ فرما یا لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى وَ أَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَى کہ اجر حاصل کرنے کے لئے عمل کرنے کی ضرورت ہے انسان کو وہی ملتا ہے جس کے لئے وہ کوشش کرتا ہے اور ایک جگہ فرمایا ہے فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمُ (الصف : 1) بعض لوگ اس پر اعتراض کر دیتے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ نے ان کے لئے گمراہی کا انتظام پیدا نہیں کیا۔خدا تعالیٰ نے تو یہ فرمایا ہے کہ جب انہوں نے حق سے روگردانی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی فطرت میں جو حق کی مناسبت رکھی تھی اس مناسبت کو زائل کر دیا اور وہ ان کے اندر نہیں رہی اور یہ قانون قدرت ہے کہ جو آدمی بدی کرتا ہے اور بدی پر اصرار کرتا ہے وہ بدی کی نفرت کو کھو دیتا ہے اور اس کے اندر اس کو خوشی اور لذت محسوس ہوتی ہے اور یہ اس کا اپنا قصور ہے۔اس کی ظاہری اور موٹی مثال یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے قانون قدرت میں سورج کو روشنی دینے کے لئے بنایا ہے لیکن انسان کے لئے اس نے یہ قانون بنایا ہے کہ اگر وہ کھڑکیوں اور دروازوں والے کمرے بنائے تو اگر وہ دن کے وقت کھڑکیاں دروازے کھلے رکھے یا ان پرشیشے لگے ہوئے ہوں تو کمرے کے اندر روشنی آئے گی۔ہم ایسے دروازے لیتے ہیں جن میں شیشے وغیرہ نہیں لگے ہوئے تو اگر دروازے کھلے ہوں گے تو کمرے میں روشنی آئے گی۔یہ قانون قدرت ہے اور اگر کوئی شخص اپنے کمرے کے دروازے بند کر دے اور شیشہ وہاں کوئی نہیں لگا ہوا تو وہاں پر اندھیرا ہو جائے گا۔یہ قانون قدرت ہے۔ہر فعل جو انسان سے صادر ہوتا ہے وہ اس کی مرضی سے ہوتا ہے۔اب وہ صاحب اختیار ہے کہ چاہے تو اپنے کمرے کا دروازہ بند کرے اور چاہے تو اپنے کمرے کا دروازہ بند نہ کرے اس کو یہ اختیار حاصل ہے لیکن جب وہ دروازہ بند کرتا ہے تو اس کے اس فعل پر کہ اس نے سب دروازے اور کھڑکیاں بند کر دیں اور وہاں کوئی شیشہ بھی نہیں لگا ہوا اللہ تعالیٰ ایک اثر پیدا کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہاں پر اندھیرا کر دیتا ہے۔یہ انسان کا فعل ہے کہ اس