انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 340 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 340

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۴۰ سورة الحجرات کرنے کے لئے شیطان حملے کرتا ہے وہ حملے ناکام ہو جا ئیں اور پھر اس کے بعد خدا تعالیٰ کے مزید فضلوں کو حاصل کرنے کے لئے علی وجہ البصیرت خدا تعالیٰ کے حضور ہر چیز پیش کر دی جائے۔پھر وَ جَهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللہ کی رُو سے انسان یہ عہد کرتا ہے کہ اے خدا! ہر چیز تیری ہے جسے ہم تیرے حضور پیش کر دیں گے۔پھر وہ کبھی کروڑ میں سے ایک پیسہ مانگ لیتا ہے اور کہتا ہے باقی تم اپنے پاس رکھ لو اور کبھی وہ پانچ ہزار میں سے پانچ ہزار لے جاتا ہے۔ایک شخص کا ایک ہی مکان ہے اسے جلا دیا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے الْحَمدُ لِلَّهِ - رَضِيْتُ بِاللهِ رَبِّا۔مکان جل جانے کی وجہ سے اپنے رب کو تو نہیں چھوڑتا۔ایسے موقع پر مومن کہتے ہیں ہم اپنے رب پر راضی ہیں۔پھر فرما یا أوليكَ هُمُ الصّدِ قُونَ جو لوگ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں صادق ہوتے ہیں ان کی علامت یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے رب سے راضی ہوتے ہیں۔پھر اس شبہ کا ازالہ کیا کہ محض ظاہری اعمال کافی نہیں۔قُلْ اتَّعَلَّمُونَ اللَّهَ بِدِینِكُم خدا کو میں نے اپنے دین کے معاملہ میں کچھ نہیں بتانا وہ تو علام الغیوب ہے۔خدا تعالیٰ نے مجھے بتانا ہے کہ وہ مجھ سے کتنا پیار کرتا ہے۔قُلْ اتَّعَلَّمُونَ اللهَ دینکم کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ میں اپنے متعلق بھی نہیں کہہ سکتا کیونکہ خدا مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے۔اس کے علم کا کوئی اندازہ ہی نہیں۔میرے علم کو اس سے کوئی نسبت ہی نہیں۔وہ علام الغیوب ہے۔آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اس کو جاننے والا ہے اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔کیا میں اس خدا کو بتاؤں گا جو علام الغیوب ہے لیکن میں نے اس سے یہ علم حاصل کرنا ہے کہ وہ مجھ سے پیار کرتا بھی ہے یا نہیں یا پیار کرتا ہے تو کتنا پیار کرتا ہے۔( خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۴۴۳ تا۴۵۳)