انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 339
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۳۹ سورة الحجرات نے تمہیں ان هديكم لِلإِيمَانِ ایمان کی راہوں کی طرف ہدایت دی ہے تو یہ تو خدا کا تم پر احسان ہے۔تمہارا تو خدا پر کوئی احسان نہیں اور پھر اس سے اگلی آیت میں وَاللهُ بَصِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ پر اس سارے مضمون کو ختم کیا ہے فرمایا جو تم عمل کرتے ہو اللہ اس سے اچھی طرح واقف ہے اس لئے خدا تعالیٰ کے متعلق حکم لگانا انسان کا کام ہی نہیں وہ تو مالک ہے جس کو چاہے بخش دے جس کو چاہے نہ بخشے یہ میرا اور تمہارا کام ہی نہیں لیکن خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں بعض اصول اور اپنی سنت اللہ کے و وام طور پر بعض چیزیں بتائی ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے میں بَصِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ہوں تم جو بھی عمل کرتے ہو ان کی اچھائی اور برائی ان کا ظاہر اور باطن مجھ سے پوشیدہ نہیں یہ میں نے فیصلہ کرنا ہے کہ کون مومن ہے اور کون کا فرتم نے یہ فیصلہ نہیں کرنا۔مثلاً جہاں تک جزا وسزا کا تعلق ہے جب ہم مرنے کے بعد اٹھیں گے اور اللہ تعالیٰ کے دربار میں فیصلے ہوں گے تو پھر وہاں پتا لگ جائے گا کہ کون مومن ہے اور کون کا فر ؟ کیونکہ کسی کے ایمان اور کفر کا فیصلہ تو خدا نے کرنا ہے اپنے زور پر تو کسی نے نہ جنت میں جانا ہے اور نہ کسی نے جنت میں جانے سے کسی دوسرے کو روکنا ہے یا پھر بعض اصول ہیں جو قرآن کریم نے بتائے ہیں مثلاً یہ کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خود خدا تعالیٰ بتا دیتا تھا کہ یہ منافق ہے۔بعض لوگوں کے متعلق خدا تعالیٰ بتا دیتا تھا کہ یہ ہیں تو منافق مگر ابھی کسی کو بتاؤ نہیں۔کسی کے متعلق خدا تعالیٰ بتا دیتا تھا کہ یہ جنتی ہے اس کا انجام بخیر ہو گا لیکن اسے بتاؤ نہیں ، اس کو چلنے دواسی طرح۔پس یہ تو خدا تعالیٰ کی شان ہے بندوں کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔۔۔پس یہ جو آیات میں نے اس وقت پڑھی ہیں ان میں اس مضمون کا تسلسل ہے اور یہ ایک بڑا لطیف مضمون ہے جو بیان ہوا ہے۔ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ مومن کون ہوتا ہے؟ فرمایا مومن وہ ہے جو اللہ کی معرفت حاصل کرے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارفع مقام کو پہچانے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت کی راہ پر چلتے ہوئے اس مقام تک پہنچ جائے کہ ثُمَّ لَم یر تابوا اس کے دل میں کوئی شک اور شبہ باقی نہ رہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے تفصیل سے بتایا ہے شیطان کے سارے حربے اور ہر سہ قسم کے وسوسے ناکام ہوں یعنی انسان کا خدا اور اس کے رسول پر جو ایمان ہوتا ہے جس کا وہ زبان سے اقرار کرتا ہے دل میں اس کے بارہ میں یقین ہوتا ہے اور عمل سے یہ ثابت کرتا ہے کہ جو بات اس کے دل میں ہے وہ سچی ہے، اس میں کمزوری پیدا