انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 291
تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيطنِ الرَّحِيمِ ۲۹۱ سورة الاحقاف بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الاحقاف آیت ۴ مَا خَلَقْنَا السَّمَوتِ وَ الْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَجَلٍ مُّسَمًّى وَالَّذِينَ كَفَرُوا عَمَّا أَنْذِرُوا مُعْرِضُونَ۔اللہ تعالیٰ نے ان آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے اندر اور ان کے درمیان پایا جاتا ہے بلا وجہ اور حکمت کے بغیر پیدا نہیں کیا اور نہ کوئی مدت مقرر کرنے کے بغیر پیدا کیا ہے۔اسی طرح اور بہت سے مقامات پر قرآن کریم نے بڑے زور کے ساتھ اس دعوی کو انسان کے سامنے پیش کیا ہے کہ اس کائنات کی پیدائش ایک خاص مقصد کے حصول کے پیش نظر کی گئی ہے۔یہ چاند، یہ ستارے، یہ سورج، اب جب ہمارا علم بڑھ گیا ہے تو ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ بے شمار سورج ہمارے نظامِ شمسی کی طرح اس عالمین میں پائے جاتے ہیں۔پھر آسمانوں کے متعلق تو بڑا تھوڑا اعلم ہے۔کم از کم تھوڑا بہت علم ہم نے حاصل کر لیا ہے کہ بعض ستارے زیادہ روشن ہیں اور بعض کم اور بعض ستارے ہم سے قریب ہیں اور بعض بہت دور یعنی یہ محض فلسفیانہ رنگ میں نہیں بلکہ دور بینوں سے ہم نے یہ پتہ لیا اور ہم نے شعاعوں کے متعلق یہ بھی پتہ کر لیا کہ کتنے لائٹ ایرز میں، یعنی کتنے ایسے سالوں میں کہ جس میں شعاعوں کی ایک سال کی رفتار جو ہے (اسے لائٹ ایرز (Light years) کہتے ہیں) وہ روشنی یہاں تک پہنچی وغیرہ وغیرہ اور اس سے جو علم حاصل ہوا جس سے ہمیں فائدہ پہنچ رہا ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح چاند اور سورج کی روشنی ہماری فصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کے اندر بعض خاص خصوصیتیں پیدا کرتی ہے اسی طرح ستاروں کی روشنی بھی اثر انداز ہوتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ