انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 265 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 265

تفسیر حضرت خلیفۃ السیح الثالث ۲۶۵ سورة الشورى رہتا ہوں۔اس وقت بڑی محنت کر کے مَتَاعُ الْحَيَوةِ الدُّنیا کی خاطر وہ کتاب لکھی گئی یعنی وہ کتاب محض سیاسی غرض کے حصول کے لئے لکھی گئی تھی لیکن جب اسلام کے ساتھ تعلق رکھنے والی آسمانی برکات کا سوال پیدا ہوا اور دوسرے مذاہب کے ساتھ موازنہ کا سوال پیدا ہوا تو اس غرض کے لئے وہ آج ہمارے کام کی کتاب ہے۔جیسا کہ بدصورت چہرہ خوبصورت کے حسن کو اُجاگر کرتا ہے۔پس آسمانی برکات کا یہ پہلو کہ اسلام کے مقابلے میں جو چیز ہے جو آسمانی برکات سے محروم ہے وہ حسین نہیں ، وہ خوبرو نہیں ، وہ خوبصورت نہیں ، وہ مفید نہیں ، وہ محسن نہیں۔اس مقابلہ اور موازنہ کے لئے وہ بڑی مفید کتاب ہے۔آسمانی ہدایت کو روشن کر کے اور اس کے حسن کو ظاہر کر کے بعض مضامین لکھنے کے لئے اس کتاب کی ضرورت تھی اور اس طرح طفیلی طور پر اس کی بقا کا سامان موجود تھا۔روحانی قوتوں اور استعدادوں کا اگر چہ مَتَاعُ الحیوۃ الثانیا کے ساتھ تعلق نہیں ہے لیکن تعلق ہے بھی جب کہ روحانیت بگڑ جائے مثلاً بہتوں نے مذہب کو روزی کمانے کا ذریعہ بنالیا۔قرآن کریم نے بھی ایک جگہ فرمایا ہے کہ تم نے اسلامی ہدایت کے انکار کو اپنے پیٹ پالنے کا ذریعہ بنالیا ہے۔پس جب روحانیت محض نام کی ہو اور آسمانی برکات اس میں شامل نہ ہوں تو وہ روحانی استعداد یں بھی متاع الحيوةِ الدُّنْيَا بن جاتی ہیں۔پس قرآن کریم کی صداقت بالکل ظاہر ہے کہ فَمَا أُوتِيتُم مِّنْ شَيْءٍ تمہیں جو کچھ بھی دیا گیا ہے خواہ وہ روحانی استعداد میں ہی کیوں نہ ہوں اس کا فائدہ کچھ نہیں متاع الحيوةِ الدُّنْيَا اس سے تو اس ورلی زندگی کا سامان ہی ملے گا اور جو اصل غرص ہے وہ پوری نہیں ہوگی۔اس آیت کے شروع میں ایک بنیادی حقیقت بیان کی گئی ہے جو کہ اس کائنات کی بنیاد ہے کہ اس کا ئنات میں جو کچھ بھی ہے وہ ورلی زندگی کا سامان ہے لیکن اس بنیادی حقیقت کے بیان کے بعد اس سے بھی اہم اور کچی حقیقت بیان ہوئی ہے فرمایا۔وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ وَ أَبْقَى لِلَّذِينَ آمَنُوا وَ عَلَى يتوسلون کہ خدا تعالیٰ نے ایک اور سامان بھی پیدا کیا ہے جو آسمانوں سے نازل ہوتا ہے۔وہ ہر کس و ناکس کے لئے موجود نہیں رہتا بلکہ جس پر اللہ تعالیٰ فضل کرے اور جس کو وہ اپنی رحمت سے نوازے ان کے لئے ملائکہ یہ سامان لے کر آتے ہیں اور جن پر اللہ تعالیٰ فضل کرے اور جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نوازے وہ اس ورلی زندگی کے مادی سامانوں کی کایا پلٹ کر ان کی ہیئت کذائی بدل کر انہیں ایک نہایت ہی بدلی ہوئی چیز بنا دیتے ہیں جس کا تعلق صرف حیات دنیا سے نہیں بلکہ حیات