انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 264
۲۶۴ سورة الشورى تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث نظر آتی ہیں۔اخلاق کا حسن ان مصنفین کی آنکھوں سے پوشیدہ رہا اور اس کا خول اور میں کہوں گا کہ وہ بھی کرم خوردہ، اُن کے سامنے آیا اور انہوں نے اس کے متعلق لکھنا شروع کر دیا ور بڑی شہرت حاصل کی اور بڑا نام پیدا کیا لیکن وہ مَتَاعُ الحیوۃ الدنیا تھی ، ان کی شہرت اور ان کی ناموری کا تعلق محض اس ورلی زندگی کے ساتھ تھا اور ورلی زندگی کی چیزیں ، خود ورلی زندگی ہی بھول جاتی ہے۔ایک نسل کے بعد دوسری نسل پیدا ہوتی ہے اور نئی نسل کے سامنے نئے چٹکلے رکھ دیئے جاتے ہیں اور پرانی با تیں نئی نسل بھول جاتی ہے۔اُن کتابوں کے نام بھی یاد نہیں رہتے ان کے مضامین بھی یاد نہیں رہتے۔صرف وہی چیزیں یاد رکھی جاتی ہیں جو مذہب کی خوبیوں کو بیان کرنے والی ہیں یا جو بگڑی ہوئی انسانی فطرت کی برائیوں کو بیان کرنے والی ہیں کیونکہ انہیں بچے اور حقیقی مذہب کی خوبیوں کو اجاگر کرنے کے لئے یادرکھنا پڑتا ہے۔یہ میں نے اس لئے کہا ہے کہ انگلستان میں ایک مشہور لبرل مصنف نے غالباً ۱۸۳۶ء میں ایک کتاب لکھی جس میں اس نے بعض پہلوؤں سے ایک مذہب کی بہت گھناؤنی شکل کھینچی کیونکہ اس وقت اس مذہب کے اجارہ دار بھی اس قوم کے استحصال میں شامل تھے۔میں اپنی پڑھائی کے سلسلہ میں ایک مضمون لکھ رہا تھا تو اس کتاب کا نام اور لکھنے والے کا نام کسی ضمن میں دیکھا۔اس نام سے میں نے اندازہ لگایا کہ یہ ہم احمدیوں کے کام کی کتاب ہے۔جب ہم اسلام کا دوسرے مذاہب کے ساتھ موازنہ کریں تو یہ کام آئے گی۔چنانچہ وہاں ایک بہت بڑی دُکان بلیک ولز (black wilz) ہے میں اس دکان پر گیا اور میں نے کہا کہ مجھے یہ کتاب چاہیے۔وہ کہنے لگے کہ ۱۸۳۶ء کی چھپی ہوئی کتاب جو کہ اپنی ضرورت پوری کر چکی ہے وہ اب کہاں ملتی ہے۔اس کو تو آؤٹ آف پرنٹ ہوئے بھی ایک زمانہ گذر گیا ہے۔اس کا ملنا تو بڑا مشکل ہے۔میں نے دل میں کہا کہ تمہاری ضرورت اس نے پوری کر دی ہوگی لیکن میری ضرورت تو اس نے پوری نہیں کی۔جب اسلام کا دوسرے مذاہب کے ساتھ موازنہ اور مقابلہ کیا جائے تو یہ بڑی کارآمد کتاب ہے۔میں نے ان سے کہا کہ اشتہار دو جہاں سے بھی ہو مجھے یہ کتاب منگوا کے دو۔مجھے تو اس کے حاصل کرنے میں دلچسپی ہے۔خیر ! ان کو اس بات پر راضی کیا کہ وہ اشتہار دے کر جہاں سے بھی ملے مجھے سیکنڈ ہینڈ کتاب ڈھونڈ کر دیں گے۔چنانچہ انہوں نے ڈھونڈ دی۔میں نے وہ بڑی سنبھال کر رکھی ہوئی ہے اور بعض لوگوں کو میں اس کے بعض حصے پڑھاتا