انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 249
تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ۲۴۹ سورة حم السجدة بھلائی اور خیر خواہی کی وجہ سے کر رہا ہے وہ آپ کو غلط راہ پر سمجھ سکتا ہے، وہ آپ کے عقیدہ کو غلط عقیدہ سمجھ سکتا ہے، وہ آپ کے عمل کو جو اس (کے) عقیدہ کے مطابق ہے ہوسکتا ہے کہ عمل صالح نہ سمجھے لیکن ان کو یہ و ہم کبھی نہیں گزرنا چاہیے کہ یہ شخص جو کچھ کر رہا ہے وہ محبت کے منبع سے نہیں پھوٹا بلکہ دشمنی اور فساد کے منبع سے پھوٹا ہے۔(1) پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرف ہمیں متوجہ کیا ہے کہ ” موعظہ حسنہ کی تعلیم پر عمل کرو جو الہی سلسلے جاری کئے جاتے اور قائم کئے جاتے ہیں ان کے ساتھ بعض پہلو انذاری بھی ہوتے ہیں موعظہ اس وعظ اور نصیحت کو کہتے ہیں جس میں انذار کا اظہار کیا جائے سو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انذار کا اظہار دوسروں کو غصہ دلانے والا اور غلط فہمی پیدا کرنے والا بھی ہوسکتا ہے اس لئے بڑی احتیاط سے کام لیا کرو جب انذاری پیشگوئیاں بیان کیا کرو انذار کے ساتھ تبشیر کے پہلوؤں کو بھی نمایاں کرتے چلے جاؤ تا کہ سننے والے یہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو انذاری وعید اور پیشگوئیاں کی ہیں وہ ہماری ہی بھلائی کے لئے ہیں اور ساتھ ہی یہ شرط کر دی ہے کہ اگر انسان تو بہ کرے اور روبہ اصلاح ہو اور اپنے رب اور مولیٰ کی طرف رجوع کرے تو یہ وعید مل جایا کرتے ہیں اور ضروری ہے کہ اصلاح کے بعد انذاری پیشگوئیاں پوری نہ ہوں جیسا کہ انبیائے سابقین جو ہیں ان کی پیشگوئیاں کی تاریخ سے بڑی اچھی طرح واضح ہوتا ہے۔(۷) پھر ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ منکر اور مخالف کے اعتقادات کے دھارے کا منہ موڑنے کے لے امن اور صلح کی راہوں کو اختیار کر وفتنہ اور فساد کی راہوں سے اجتناب کرو اور احسن کے ساتھ اس کا مقابلہ کرو اور (۸) آٹھویں بات ہمیں یہ بتائی گئی تھی کہ جب تم نے اپنے جتھے کی مضبوطی اپنی عزت کے استحکام یا اپنی خواہشوں کو پورا کرنے کے لئے دنیا کو اپنی طرف نہیں بلا نا بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف بلانا ہے اور تمہاری ذات کا اس میں کوئی فائدہ نہیں تو اللہ تعالیٰ نے جس راہ اور جس طریق سے بلانے کا حکم دیا ہے اس طریق کو اختیار کرو اور نرمی اور محبت اور پیار سے کام لو۔(۹) پھر ہمیں کہا گیا ہے کہ منہ کی باتیں اگر دل اور اگر جوارح اور اگر روح سے نہ نکلیں تو وہ اثر انداز نہیں ہوا کرتیں اس لئے تم دنیا کے سامنے عملی نمونہ رکھو فرمایا:۔