انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 248 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 248

تفسیر حضرت خلیفہ اسیح الثالث ۲۴۸ سورة حم السجدة کے مطابق ہمارے پاس ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سکھائی ہوئی تفسیر ہے۔(۳) پھر ہمیں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ہر محل پر بولنا جو ہے وہ خوبی نہیں بلکہ بعض دفعہ گندہ دہنی کے مقابلہ میں انسان ایک بلیغ خاموشی کو اختیار کرتا ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا الصمت حکم۔حُکم کے معنی یہاں مفردات راغب میں ”حکمت“ کے لکھے ہیں۔(۴) پھر ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ مخاطب کی طبیعت اور اس کے علم اور اس کی ذہنیت کے مطابق اس سے بات کرنی چاہیے اور جو ایسا نہیں کرتا وہ حکمت سے بعید بات کرتا ہے۔بعض دفعہ نوجوان اپنی جوانی کے جوش میں اس چیز کو بھول جاتے ہیں کہ بات تو اس سے کرنی چاہیے جس کی طبیعت کا ہمیں علم ہو اور واقفیت ہو اس کی ذہنیت سے ہم واقف ہوں اور وہ بات اس کے سامنے ہم کریں جو وہ سمجھ سکتا ہو میں نے سنا ہے کہ بعض دفعہ بعض نوجوان مساجد میں رات کے وقت اپنے رسالے یا اپنے اشتہار چھوڑ آتے ہیں یا دوکانوں کی دہلیز میں سے اندر اپنا لٹریچر رکھ دیتے ہیں تو یہ حکمت کا طریق نہیں، یہ وہ طریق نہیں جسے اللہ تعالیٰ نے پسند کیا ہے نہ یہ وہ طریق ہے جو اثر انداز ہوسکتا ہے۔ہمارا مقصد یہ نہیں کہ پچاس ہزار اشتہار طبع کروا کے اسے تقسیم کر دیں مقصد تو یہ ہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ایک نور کو پایا ہم نے ایک برکت کو حاصل کیا ہم پر رحمت کے دروازے کھلے ہم یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم نے اس نور، اس برکت اور اس رحمت کو حاصل کیا ہے ہمارے دوسرے بھائی بھی اس نور، برکت اور رحمت کو حاصل کریں لیکن ایسا طریق اختیار کرنا کہ ان حسین جنتوں کے دروازے وا ہونے کی بجائے اور بھی ان پر مسدود ہو جائیں تو یہ حکمت کا طریق نہیں ہے ان چیزوں سے ہمیشہ بچتے رہنا چاہیے اور بڑے استغفار کے ساتھ اور بڑے تضرع کے ساتھ اور بڑی محبت اور پیار کے ساتھ ان باتوں کو ان بھائیوں کے سامنے پیش کرنا چاہیے جو ابھی ان باتوں کو تسلیم نہیں کرتے اور ان پر ایمان نہیں لاتے تا وہ یہ یقین کرنے لگیں کہ یہ شخص انتہائی محبت سے، انتہائی خلوص سے، ہمارے سامنے یہ باتیں رکھ رہا ہے اور کوئی لڑائی اور جھگڑا اور فساد کا دروازہ نہ کھلے۔(۵) پھر اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ صرف زبان کا قول کافی نہیں بلکہ عمل کا جو اظہار ہے اس کے ذریعہ دوسروں کے دلوں تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے حسن سلوک ایک بہترین راہ ہے جس سے کہ اگلا آدمی کم از کم اس بات کا قائل ہو جاتا ہے کہ یہ شخص میرا دشمن نہیں جو کچھ کر رہا ہے ، میری ہمدردی،