انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 234 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 234

۲۳۴ سورة حم السجدة تفسیر حضرت خلیفة امسح الثالث پس اس دنیا میں بعض انسان جنت میں داخل ہوتے ہیں اور جنت ہی میں رہتے ہیں پھر ابدی جنت ان کو نصیب ہو جاتی ہے۔اس دنیا کی جنت بھی انہیں مل جاتی ہے اور ساتھ ہی اسی تسلسل میں حقیقی جنت بھی انہیں مل جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس پر روشنی ڈالی ہے لیکن میں اس وقت تفصیل میں نہیں جاسکتا۔دنیوی زندگی کی جنت کے تسلسل میں وہ وقت بھی آجاتا ہے جس کو ہم قیامت کہتے ہیں۔جب اللہ تعالیٰ کے حسن کا وہ جلوہ جسے انسانی روح برداشت کر سکتی ہے پوری شان کے ساتھ ظاہر ہوگا اور اس کے محبوب انسان کو ابدی جنت کا وارث بنادے گا۔پس اس دنیوی جنت میں ایک تو یہ لوگ آگئے۔دوسرے وہ لوگ اس میں داخل ہونے والے ہیں جن کے متعلق یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ گو یا دہلیز پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ان کے لئے اندر جانے کا بھی موقع ہے اور باہر نکلنے کا بھی جیسا کہ بلعم باعور کا قصہ مشہور ہے۔بعض لوگوں نے اسے ایک فرد کہا ہے اور ہمارے نزدیک یہ ایک جماعت ہے یعنی ہمیشہ ہی اسی قسم کے لوگ پیدا ہوتے رہتے ہیں جو اپنی کوششوں کے نتیجہ میں (وہ کوششیں جو نیک تو ہوتی ہیں لیکن عارضی ہوتی ہیں ) خدا تعالیٰ کے پیار کو اور اس کی بشارات کو حاصل کر لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سے ہم کلام ہوتا ہے تا زندگی کے اس دور میں اس کے متعلق کسی کو یہ دھوکا نہ لگے کہ جو شخص اتنا مجاہدہ کر رہا ہے، اتنا جہاد کر رہا ہے۔خدا تعالیٰ کی راہ میں اتنی قربانیاں دے رہا ہے وہ خدا تعالیٰ کا مقبول نہیں بن سکا وہ بظا ہر نیک نیتی سے قربانیاں دے رہا ہوتا ہے یوں سمجھنا چاہیے کہ اس کا قربانیاں دینا گویا بظاہر عند اللہ نیک نیتی پر محمول ہو رہا ہے ویسے اللہ تعالیٰ کا علم تو ہر چیز پر محیط ہے۔غرض یہ اس کی ایک عارضی کیفیت ہے لیکن کیفیت نیکی اور اخلاص کی ہے اس واسطے خدا تعالیٰ کے پیار کا جلوہ ظاہر ہوتا ہے۔اس کے بعد اس کی یہ کیفیت نہیں رہتی۔اس کے اندر تکبر پیدا ہوجاتا ہے چنانچہ وہ انسان جس کو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کی متعدد آیات کی رُو سے ابدی پیار کے لئے پیدا کیا ہے وہ اس حقیقت کو بھول جاتا ہے اور کچھ تھوڑا سا پیار حاصل کر لینے کے بعد سمجھتا ہے کہ اب میں بہت کچھ بن گیا ہوں۔اب مجھے خدا کی بھی ضرورت نہیں رہی پھر وہ بلعم باعور بن جاتا ہے اور وہ علامت بن جاتا ہے اُس جماعت کی جو خدا کے پیار کو پانے کے باوجود اپنے غرور کی وجہ سے پستی اور ذلت کی مستحق بن جاتی ہے۔ایسی جماعت یا ایسا شخص گویا جنت میں داخل بھی ہوا اور جنت سے نکالا بھی گیا۔یہ ایک الگ مضمون ہے اس کی تفصیل میں جانے کا وقت نہیں۔