انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 228
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۲۸ سورة حم السجدة دکھانے کے لئے اور ان کو سبق دینے کے لئے کہ میں اپنے بندوں پر بلائیں بھی نازل کرتا ہوں انہیں بلاؤں میں ڈالتا ہے۔وہ خاموشی بھی اختیار کرتا ہے اور ماں کی طرح کبھی یہ بھی کہہ دیتا ہے کہ جاؤ میں تم سے ناراض ہوں اور اس ناراضگی کے آثار کے پیچھے مسکراہٹیں جھلک رہی ہوتی ہیں۔دیکھنے والی آنکھ وہ دیکھتی ہے لیکن دنیا یہ بجھتی ہے کہ خدا اس سے کلام کرتا تھا لیکن آج وہ اس کو بھول گیا۔اللہ تعالیٰ اس پر رحمت اور پیار کی نگاہ رکھتا تھا لیکن آج ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اس سے اپنا منہ پھیر لیا لیکن اس نے اس سے منہ اس لئے نہیں پھیرا کہ وہ اس سے ناراض تھا اس نے اس سے منہ اس لئے نہیں پھیرا کہ اس کو اور دنیا کو اس امتحان اور غصہ کے پیچھے اور ان آفات کے ماورا خدا کا پیار اور رضا نظر نہ آئے وہ اپنا غصہ بھی دکھاتا ہے اور انسان کو آزماتا بھی ہے اور اس سے وہ دنیا کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ میر احسن اور احسان اور میری محبت اور میری رضا ایسی زبر دست تاثیر رکھنے والی ہے کہ جب وہ کسی انسان کو مل جاتی ہے تو وہ اس کے بعد مجھ سے پرے نہیں ہوتا۔دنیا جو چاہے کرے وہ اس کو میرے دامن سے چھڑانے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔یہ ہے استقامت۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رمضان آیا۔تم نے روزے رکھے رمضان آیا تم نے خلوص نیت کے ساتھ راتوں کو اٹھ کر میری تسبیح اور میری تحمید کی اور میرے ذکر میں تم مشغول رہے۔رمضان آیا۔تم نے نفس کی خواہشات کو میری خاطر رو کے رکھا اور ان کو اپنا غلام بنایا۔تم اپنے نفس کی ان خواہشات کے خود غلام نہ بنے۔رمضان آیا اور تم نے میری چلائی ہوئی اندھیریوں کی طرح اپنے اموال کو مستحقین میں لٹایا اور سب دے دلا کر تم نے محسوس کیا کہ یہ خدا کا تھا۔خدا کی رضا کے لئے ہم نے یہ چیز اس کو دی اور یہ گھاٹے کا سودا نہیں بلکہ بڑے نفع کا سودا ہے کہ ہم نے جو دیا وہ بھی اس سے لے کر ہم نے دیا ہے یہ ایسی بات ہے کہ آپ کسی دکاندار کے پاس جائیں اور وہ عید منانے کے لئے پانچ سوروپیہ کا کپڑا آپ کو دے اور جب آپ کپڑا پھڑوا چکیں تو وہ چپ کر کے آپ کی جیب میں پانچ سو روپیہ ڈال دے اور آپ اسی کی رقم اسے دے کر وہ کپڑا لے آئیں اور یہ سراسر فائدہ کا سودا ہے گھاٹے کا تو یہاں سوال ہی پیدا نہیں ہو تا شاید الفاظ اسے ٹھیک طور پر بیان نہ کر سکیں لیکن اس سے بھی بڑھ کر سستا سودا ہمارا ہمارے رب کے ساتھ ہے کہ نہ صرف ہم نے جو اس کے حضور پیش کیا وہ بھی اس کی عطا تھی بلکہ پیش کرنے کی طاقت اور یہ جذبہ جو ہمارے دل میں پیدا ہوا کہ ہم اس کی محبت اور رضا کو حاصل کریں یہ بھی اس کی توفیق سے ہوا۔ہم نے اس کی راہ میں