انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 208 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 208

۲۰۸ سورة حم السجدة تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث سے اس کے خلاف احتجاج کرتی ہے اور کہتی ہے کہ تم یہ کیا کر رہے ہو اور یہ اس بات پر شاہد ہے کہ یہ تمام قومی اور قوتیں اور طاقتیں اور استعداد میں انسان کو اس لئے ملیں کہ وہ اس مقصد کو حاصل کر لے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کی معرفت اسے حاصل ہو جائے۔اللہ تعالیٰ کی عبودیت کا دائمی مقام اسے حاصل ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کے حسن و احسان کے جلوے دیکھ کر اس کی محبت کا شعلہ اس طور پر انسان کے صحن سینہ میں بھڑ کے کہ اس کا وجود بالکل فنا ہو جائے کیونکہ اس کے بغیر وہ دلی سکون اور اطمینان اور خوش حال زندگی کا احساس اپنے اندر نہیں پاتا۔اس مقصد کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت سے وسائل بتائے ہیں اور مختلف طریقوں سے اس نے ہمیں یہ سمجھایا ہے کہ تم یہ کرو اور وہ کرو تب تم اس مقصد کو حاصل کر سکو گے جس مقصد کے لئے تمہیں پیدا کیا گیا ہے۔جس مقصد کے لئے تمہیں خاص قسم کے اعضاء اور خاص قسم کی طاقتوں والے اعضاء دیئے گئے ہیں اور جس مقصد کے لئے تمہیں اخلاقی اور روحانی قوتیں، طاقتیں اور استعدادیں عطا کی گئی ہیں۔اس مقصد یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت کے حصول ، اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول اور مقام عبودیت پر قائم ہونے کا ایک وسیلہ خدا تعالیٰ نے استقامت بتایا ہے یعنی ایک دفعہ اس کے ہو گئے تو پھر عمر بھر کے لئے اسی کے ہو گئے۔پھر دنیا کی کوئی طاقت، دنیا کی کوئی مخالفت، دنیا کی کوئی ایذاء رسانی، دنیا کا کوئی دکھ اور دنیا کی کوئی شے بھی اس تعلق کو قطع کرنے میں کامیاب نہ ہو۔استقامت کے یہی معنی ہیں اور اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے جو میں نے شروع میں پڑھی تھی یعنی خالی زبان سے یا نیم معرفت سے توحید باری، ذات باری اور صفات باری کی معرفت حاصل نہیں کرنی بلکہ فَاسْتَقِیمُوا الیه تم نے یہ معرفت ایسے اعمال کے ساتھ کرنی ہے جو صحیح بھی ہوں اور درجہ بدرجہ اس کی طرف لے جانے والے بھی ہوں۔انسان پختگی کے ساتھ اس پر کھڑا ہو جائے اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ تم اسے اپنی طاقت سے حاصل نہیں کر سکتے اس لئے تم خدا تعالیٰ کی مغفرت چاہوتا اسے حاصل کر سکو۔قرآن کریم نے اس مقصد کے حصول کے لئے کہ جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے بہت سے وسائل ہمیں بتائے ہیں۔بالفاظ دیگر اس نے انسان کو بہت سے وسائل بتائے ہیں کہ جن کے ذریعہ اسے اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کا عرفان حاصل ہو۔وہ علی وجہ البصیرت یہ یقین کرے کہ اللہ واقع