انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 207
۲۰۷ سورة حم السجدة تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث اور روحانی قوتوں اور استعدادوں کے لحاظ سے ہو، ہے ہی اس غرض کے لئے کہ انسان اپنے رب سے ایک زندہ اور سچا تعلق پیدا کر لے اور اس کی نعمتوں کا وارث بنے۔جو قو تیں اور استعداد میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کی ہیں ان کی اصل غرض یہی ہے کہ ایک اسے اللہ تعالیٰ کی کمال معرفت حاصل ہو جائے دوسرے اس معرفت کے نتیجہ میں حقیقی پرستش اور عبودیت پر دوام اسے مل جائے اور تیسرے اللہ تعالیٰ کے حسن و احسان کے جلوے دیکھنے کے بعد وہ اس کی محبت میں فنا ہو جائے۔انسانی فطرت بھی اسی کی گواہی دیتی ہے اور اس پر شاہد ہے کہ انسان نے جب بھی اپنے اعضاء کو جو خدا تعالیٰ کی عطا تھے اور اپنی قوتوں اور استعدادوں کو جو روحانی ارتقاء کے لئے اسے دی گئی تھیں غلط راہوں پر استعمال کیا تو اس کے نفس نے تسلی نہیں پائی۔ہم ایک موٹی مثال لے لیتے ہیں آج کی دنیا میں انسان نے خداداد قوتوں اور طاقتوں کے استعمال سے ذرے کی طاقت (جسے ایٹامک انرجی Atomic Energy کہتے ہیں) کا علم حاصل کیا یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک ذرہ میں جو قوت چھپارکھی تھی انسان نے خدا تعالیٰ کی دی ہوئی عقل، فراست اور سائنس (انسان جو سائنس کے تجربے کرتا ہے ان میں بھی اللہ تعالیٰ کی عطا سے ہی روشنی پیدا ہوتی ہے ) کے نتیجہ میں اس کا علم حاصل کیا لیکن جہاں اس نے اس کا ایک حد تک صحیح استعمال کیا یعنی اس نے اسے انسان کے فائدہ کے لئے استعمال کیا وہاں بڑی حد تک اس کا استعمال اس رنگ میں بھی کیا کہ وہ انسان کی ہلاکت کا موجب بن جائے۔اب دیکھو یہ ایک قوت ہے اور ہمیں نظر آ رہا ہے کہ انسان نے اس کا ایک حد تک غلط استعمال کیا ہے اور اس غلط استعمال یا غلط استعمال کے امکان کے خلاف وہ لوگ بھی آئے دن مظاہرے کر رہے ہیں جو خدا تعالیٰ کے بھی منکر ہیں۔ایٹمی قوت کے غلط استعمال کے خلاف یہ مظاہرے اس بات پر شاہد ہیں اور ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ انسانی فطرت ان چیزوں کو پسند نہیں کرتی۔ابھی ان لوگوں کو خدا تعالیٰ کی ہستی کا علم نہیں ابھی انہوں نے اس کا عرفان حاصل نہیں کیا اس کے باوجود ان کے اندر سے یہی آواز نکل رہی ہے کہ ان قوتوں اور استعدادوں کو غلط طریق پر استعمال نہیں کرنا۔انہیں اس کے صحیح استعمال کا پتہ بھی نہیں لیکن اس کے غلط استعمال کے خلاف احتجاج جاری ہے۔اسی طرح اور ہزاروں مثالیں ہیں کہ جب انسان اپنے اندرونی اور بیرونی اعضاء کو یا اپنی ظاہری اور باطنی قوتوں اور استعدادوں کو اس رنگ میں استعمال کرتا ہے کہ وہ اپنے رب سے دور ہو جاتا ہے تو انسانی فطرت اندر