انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 203 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 203

۲۰۳ سورة المؤمن تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث رہے کہ اس کی بشریت کی کوئی کمزوری ظاہر نہ ہو۔اللہ تعالیٰ بھی طاقت رکھنے والا اور قادر مطلق ہے اس کی طاقت سے انسان طاقت حاصل کرنے کی توفیق پائے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا خدا کے وعدے تو ضرور پورے ہوں گے اسلام کو کامیابیاں نصیب ہوں گی۔مگر خدا کے وعدوں کی وجہ سے غرور نہ کرنا اور یہ نہ سمجھنا کہ چونکہ خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے وہ اُسے پورا کرے گا اس لئے ہم کمزوری دکھا جائیں تو کوئی بات نہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرما یا کمزوری نہیں دکھائی بلکہ ہر وقت چوکس رہنا ہے اور استغفار کرتے رہنا ہے اس لئے ہم نے کوشش بھی کرنی ہے اور دعا بھی کرنی ہے کہ ہماری بشری کمزوریاں غلبہ اسلام کی راہ میں حائل نہ ہو جائیں۔ایسا نہ ہو کہ کوئی اور قوم پیدا ہو جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے یہ وعدے پورے ہوں اور وہ ان بشارتوں کی وارث بن جائے۔دوسرے فرما یا غرور نہیں کرنا بلکہ ہر حال میں خدا تعالیٰ سے طاقت حاصل کر کے کامیابی کی راہوں کو تلاش کرنا ہے پھر فرمایا جس شخص نے خدا تعالیٰ سے طاقت حاصل کرنی ہو اس کے لئے دو باتیں ضروری ہیں ایک تسبیح کرنا اور دوسرا تحمید کرنا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :- وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِي وَ الْإِبْكَارِ تم شام اور صبح کو اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے رہو اور حمد بھی کرتے رہو۔ہمارا بھی یہی محاورہ ہے اور دوسرے ملکوں کا بھی یہی محاورہ ہے کہ جب اس قسم کا مفہوم ادا کرنا ہو تو ہم کہتے ہیں صبح و شام ایسا ہوتا ہے اس آیت میں یہ ترتیب بدل دی گئی ہے فرمایا تم اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کرو ہالعَشِي وَالإِبْكَارِ شام کے وقت بھی اور صبح کے وقت بھی دراصل اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی مجاہدہ یعنی غلبہ اسلام کے لئے جو جد و جہد کی جاتی ہے اس کی حرکت اندھیروں سے روشنی کی طرف تھی۔روشنی سے اندھیروں کی طرف نہیں تھی۔اس میں ایک لطیف اشارہ پایا جاتا ہے ایک تو وہ رات ہے جو سورج کے غروب ہونے پر دھند لکے سے شروع ہوتی ہے اور ایک اس وقت کی رات ہے جس وقت مسلمانوں کو روشنی نظر نہیں آ رہی تھی ان کو تکالیف کا سامنا تھا۔ان پر ظلم و ستم ہورہے تھے، کفر نے ان کی ترقی کے راستے میں روکیں پیدا کی ہوئی تھیں۔پس اسلام کے غلبہ کے لئے مسلمانوں کی جدو جہد نشاۃ اولی میں بھی ظلمت سے نور کی طرف تھی اور نشاة ثانیہ میں بھی ظلمت سے نور کی طرف ہے۔اس لئے العشي پہلے کہا گیا ہے اور الانكار بعد میں کہا گیا ہے آیت کے اس حصے میں اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر تمہاری یہ حرکت قائم رہے تو