انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 202
۲۰۲ سورة المؤمن تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث دیکھو پیچھے سے چھلانگیں مار مار کے آگے نہ آؤ مسجد کے آداب بھی ہیں ان پر بھی صبر سے استقامت کے ساتھ قائم رہنا چاہیئے اور وہ بھی سکھانے والے ہمارے پیارے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں اور یہ ہمارے علماء کا اور بڑوں کا اور تربیت یافتہ لوگوں کا کام ہے کہ وہ آداب زندگی ہر شعبہ زندگی کے متعلق بتاتے رہا کریں۔بہر حال اب میں یہ بتا رہا ہوں کہ ایک عبادت ہے فرائض سے تعلق رکھنے والی اگر کوئی نہ کرے گناہ گار ہو جاتا ہے۔اگر کرے تو اس انعام کا وارث ہوتا ہے جس انعام کا اس فرض سے تعلق ہے ایک عبادت ہے نوافل سے تعلق رکھنے والی۔اگر وہ عبادت نہ کرے گنہگار نہیں ہوتا لیکن رفعتوں کو حاصل نہیں کر سکتا۔خدا تعالیٰ کے اس انتہائی پیار کو حاصل نہیں کر سکتا جس انتہائی پیار کے حصول کے لئے انسان کو پیدا کیا اور ہر انسان کو دائرہ استعداد تک اس رفعت کے حصول کے لئے خدا تعالیٰ نے اس کو طاقتیں دیں۔اس کے لئے نوافل ہیں تو وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ میں فرائض بھی آتے ہیں کیونکہ ہم تسبیح اور تحمید اپنے فرائض میں بھی کرتے ہیں لیکن محض وہ نہیں بلکہ یہاں عام رکھا گیا ہے اور فرائض کی ادائیگی تھوڑی سی مشکل بھی ہو جاتی ہے نفس کے اوپر بار بھی گذرتا ہے ایک آدمی رات کو دیر تک کام کرتا رہا صبح کی نماز کے لئے اس کے لئے اٹھنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن وہ سمجھتا ہے خدا نے میرے پر فرض مقرر کیا ہے میں جاؤں لیکن یہاں جو یہ کہا گیا ہے کہ صبح وشام، دوسری جگہ کہا گیا ہے کھڑے ہو، بیٹھے ہو، لیٹے ہو، میرا ذکر کرتے رہو یہ تو خدا تعالیٰ کا پیار مطالبہ کرتا ہے اور تمہارے اوپر کوئی بار نہیں ڈالتا۔یہ نہیں کہا کہ لیٹے ہو تو بیٹھ کے تسبیح اور تحمید کرو یہ کہا ہے لیٹے ہوئے کرو۔ہر وقت مجھے یاد رکھو تو مقام محمود جو ہے ہر شخص کے دائرہ استعداد کے اندر یعنی سب سے بلند مقام جو وہ شخص حاصل کر سکتا ہے وہاں تک وہ پہنچ جائے گا۔اگر وہ محض فرائض تک رہے گا تو دوزخ سے بچ جائے گا۔( خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۳۹۳ تا ۴۰۰) اللہ تعالیٰ کا وعدہ تو ضرور پورا ہوکر رہے گا لیکن ساتھ ہی فرمایا اس کے لئے تمہیں استغفار کرنا پڑے گا۔کیونکہ اس وعدہ کے پورا ہونے کے رستہ میں تمہاری کمزوریاں حائل ہوسکتی ہیں۔جس کے نتیجہ میں وعدہ پورا ہونے میں تاخیر بھی ہو سکتی ہے یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک دوسری قوم پیدا کر دے۔جو ان وعدوں کو پورا کرنے والی ہو۔اس لئے فرمایا تم ہمیشہ استغفار کرتے رہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے استغفار کے معنے یہ کئے ہیں کہ انسان اپنے رب سے یہ درخواست کرتا