انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 181
تفسیر حضرت خلیفة امسح الثالث ۱۸۱ سورة الزمر اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ زندگی حاصل نہیں کر سکیں گے لیکن قبل اس کے کہ کوئی عمل صالح وہ بجالا سکیں اجل آتی ہے اور اس دنیا سے وہ کوچ کر جاتے ہیں تو ان لوگوں کو بھی خدا نے کہا کہ اگر تمہاری یہ کیفیت ہے تب بھی تم مایوس نہ ہونا کیونکہ اس صورت میں بھی میں تمہیں اپنی رحمت کی آغوش میں لے لوں گا اور اپنے انعاموں اور فضلوں کا تمہیں وارث بناؤں گا لیکن اگر تم بار بار تو بہ کروا گر تم اس حقیقی روح اسلام کا دعویٰ کرو اور پھر تمہیں اور زندگی بھی عطا ہو تو یہ یا درکھو کہ پھر عمل کے ساتھ تم نے صدق اور وفا کا ثبوت دینا ہے اگر تمہارا دعویٰ تو یہ ہے کہ بڑی استغفار کرنے والے ہو اگر تمہارا دعویٰ تو یہ ہے کہ ہم اس حقیقت کو پاگئے ہیں کہ اپنی تمام مرضوں اور خواہشات کو خدا کی رضا پر قربان کر دینا چاہیے لیکن تمہیں عمل کا موقع ملتا ہے عمل صالح کا اور تم وہ عمل صالح بجا نہیں لاتے تو پھر تمہاری انابت ظاہری اور تمہارا اسلام کا دعویٰ تمہیں کچھ کام نہیں دے گا۔وَاتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَ انْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ اس لئے ہم تمہیں کہتے ہیں کہ تمہیں انابت الی اللہ اور اسلام کے بعد یعنی اس روح اسلام کے بعد جس کی طرف میں نے ابھی مختصراً اشارہ کیا ہے، موقع دیا جائے گا زندگی عطا ہو کچھ عرصہ تمہیں اس دنیا میں رہنے دیا جائے تو پھر یہ یاد رکھنا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی رحمت کے وارث ہونا چاہتے ہو تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم خاص قسم کے اعمال بجالا ؤ اپنے رب کو راضی کرنے کے لئے اور یہ نہ بھولو کہ اللہ تعالیٰ تمہارا رب ہے اس نے تمہیں پیدا کیا اور فطرت صحیحہ عطا کی اور اس فطرت صحیحہ کی نشوونما کے لئے آسمان سے اس نے اپنی وحی کو نازل کیا اور فطرت فطرت میں اس نے فرق رکھا اور وقت وقت اور موقع موقع اس نے علیحدہ قسم کے رکھے۔ہر قسم اور ہر موقع کے لحاظ سے ہر فطرت صحیحہ کے لئے ایک عمل صالح بنا یا تو اگر تم اپنی حالت اپنی قوتوں اور استعدادوں کے مطابق اور موقع اور محل کے لحاظ سے احسن عمل بجانہ لاؤ گے تو میری رحمت تم پر نازل نہ ہوگی لیکن اس زندگی میں جوانا بت اور اسلام کے بعد کی ہے تم اپنی طاقت کے مطابق اپنے حالات کے لحاظ سے موقع اور محل کو دیکھتے ہوئے اَحْسَنَ مَا اُنْزِلَ الیم پر عمل کرو گے جو بہترین حکم ہے اس پر عمل کرنے والے ہو گے اور یہ عمل تم موت کے وقت کرنے کا ارادہ نہیں کرو گے بلکہ انابت اور اسلام کے بعد زندگی کی وہ گھڑیاں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں عطا ہوئی ہیں جو عذاب سے پہلے کی ہیں۔اس میں تم أَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ پر عمل