انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 167 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 167

۱۶۷ سورة الزمر تفسیر حضرت خلیفة امسح الثالث نے انسان کو ایک یو نیورس قرار دیا ہے۔ایک زاویہ نگاہ سے حقیقت بھی یہی ہے کہ انسان خود ایک عالم ہے اس کے اندر ایک انقلاب آ جاتا ہے لیکن اس انقلاب کے لئے یہ ضروری ہے کہ خشیت اللہ ہو۔پھر یہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال اور دوسری صفات کا عرفان دیتی اور اس میں بڑھاتی چلی جاتی ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ سے ذاتی محبت بھی ہونی چاہیے۔آپ کتے کو دس دن روٹی دیں تو وہ دم ہلاتے ہوئے آپ کے پیچھے چل پڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو ظاہری اور باطنی نعماء سے مالا مال کر دیا مگر پھر بھی انسانوں میں سے بعض ناشکرے ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے رسول کے پیچھے نہیں چلتے ، اس کی آواز پر لبیک نہیں کہتے۔غرض ذاتی محبت انتہائی احسان کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔جب انسان خود کو اللہ تعالیٰ کی نعماء میں اس طرح گھرا ہوا پاتا ہے کہ اُسے اللہ تعالیٰ کے احسان کے علاوہ اور کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی۔تب وہ اللہ تعالیٰ کی محبت سے بھر جاتا ہے پھر دنیا کی کوئی طاقت اس رشتہ محبت کو جسے وہ اپنے رب سے باندھتا ہے۔قطع نہیں کر سکتی۔ہماری (انسان کی) تاریخ میں اس قسم کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں، انبیاء علیہم السلام کی بھی اور اولیاء اللہ کی بھی پھر سب سے بہتر اور اعلیٰ اور احسن مثال حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کی ہے۔آپ کی مکی زندگی کا وہ واقعہ تو بڑا مشہور ہے جب سرداران مکہ نے آپ کو اور آپ کے چند ماننے والوں کو قریباً اڑھائی سال کے لئے شعب ابی طالب میں بند کر دیا تھا۔اُن پر رسد کی ساری راہیں بھی بند کر دی تھیں۔تاہم اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ رکھنے کے لئے کچھ کیا تو تھا۔مگر اس کی تفصیل ہماری تاریخ نے محفوظ نہیں رکھی۔لیکن ان کی حالت یہ تھی کہ ایک بزرگ صحابی کہتے ہیں ایک دفعہ رات کے وقت میرا پاؤں ایک ایسی چیز پر پڑا جسے میرے پاؤں نے نرم محسوس کیا میں نیچے جھکا اسے اٹھایا اور کھا لیا۔بعد میں مدینہ میں انہوں نے یہ روایت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے آج تک پتہ نہیں وہ چیز کی تھی بھوک کی یہ حالت تھی کہ ان کو یہ دیکھنے کا خیال ہی نہیں آیا کہ یہ چیز کھانے کے قابل بھی ہے یا نہیں۔غرض اڑھائی سال تک اس شدید تکلیف کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ سے ان کا رشتہ قطع نہیں ہوا۔بلکہ اور زیادہ مضبوط ہو گیا۔کیونکہ اس عرصہ میں خدا جانے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی جمالی صفات کے کیا کیا جلوے دیکھے تھے۔ہر آدمی اپنی زندگی میں یہ جلوے دیکھتا ہے ہم نے اپنی زندگی میں خدا تعالیٰ کی