انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 163
۱۶۳ سورة الزمر تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے محبت اور پیار کا ایک زندہ تعلق پیدا کرے۔اس کے لئے ایک تو وحی، قانون قدرت کے مطابق وقتاً فوقتاً اللہ تعالیٰ کے نیک بندے آتے رہے۔انبیاء آئے جن پر شریعتیں نازل وئیں۔ایسے نبی پیدا ہوئے جنہوں نے يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ (المائدة: ۴۵) انہوں نے پہلی شریعت کے مطابق لوگوں کی ہدایت کے اور ان کی تربیت کے سامان پیدا کرنے کی کوشش کی اور پھر ایک کامل شریعت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور افراد اور نوع انسانی بحیثیت مجموعی خدا کے دربار میں داخل ہو، اس کے سامان پیدا ہونے شروع ہو گئے سورۃ انبیاء میں ہے۔قُلْ إِنَّمَا انْذِرُكُم بِالوخي (الانبیاء : ۴۶) جو میں تمہیں یہ کہتا ہوں کہ ان راہوں کو اختیار نہ کرو جو اللہ تعالیٰ سے دور لے جانے والی ہیں تو اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا۔وحی نازل ہوتی ہے کہ میں تمہیں کہوں کہ تم ان راہوں کو اختیار نہ کرو اور اس کے ساتھ وہ دوسرا پہلو بھی عربی کے محاورے قرآن کریم کے محاورے کے لحاظ سے آ جاتا ہے اور میں ان راہوں کی نشاندہی کرتا ہوں جن پر چل کر تم خدا کے قرب کو حاصل کر سکتے ہو اور اس کے پیار کو پاسکتے ہو۔وَلَا يَسْمَعُ الصُّةُ الدُّعَاءَ إِذَا مَا يُنْذَرُونَ (الانبياء : ۴۲) اور جب اس شخص کو جس کے کان کو ابھی حکم باری نہیں ملا کہ وہ وحی کی آواز کو سنے وہ نہیں سنتا۔جب وہ انذار ہو اس کو کہا بھی جائے، بتایا جائے ، نشان دہی کی جائے ، عقل بھی ہے دوسرے ہوش و حواس بھی ہیں مگر خدا تعالیٰ کا حکم نہیں نازل ہوا تو یہ جو معنی میں کر رہا ہوں یہ اس آیت کے مطابق ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے دلوں پر ان کے اپنے اعمال کی وجہ سے میں نے مہر لگا دی ہے لیکن وہ اپنا مستقل ایک مضمون ہے اپنے اپنے وقت پر بیان ہوتے رہتے ہیں۔پھر سورہ زمر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ پہلے تو یہ تھا نا سنتے نہیں۔اس میں یہ ہے کہ سنتے ہیں پھر ان کو اللہ تعالیٰ یہ بھی ہدایت دیتا ہے اس فرد واحد کو، آتا ہے کہ تو سن اور سمجھ۔پھر وہ پوری طرح سمجھتا ہے تو ہر تعلیم کے متعلق بنیادی حکم یہ ہے کہ عمل صالح کرو جو موقعہ اور محل کے مطابق ہو۔بندے کو یہ اختیار دیا گیا ہے نا اور اسی وجہ سے اس کو ثواب ملتا ہے وہ سوچتا ہے کہ کون سا احسن طریق ہے اس حکم خداوندی پر عمل کرنے کا اس کے مطابق وہ عمل کرتا ہے تو الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَولَ جو بات کو سنتے ہیں خدا کے حکم کے ماتحت پھر جو سب سے بہتر عمل ہے اس کے نتیجہ میں فيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ اس کے مطابق وہ عمل کرتے ہیں۔اولبِكَ الَّذِينَ هَدبُهُمُ اللهُ یہ عمل اس واسطے احسن کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ވ