انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 162
تفسیر حضرت خلیفة امسح الثالث سورة الزمر ہوں۔فَاعْبُدُوا مَا شَخْتُم مِّن دُونِهِ باقی رہے تم تو اللہ تعالیٰ کے سوا جس کی چاہو تم عبادت کرو۔میں مکلف نہیں ہوں اس بات کا کہ تمہیں بھی پکڑ کے باندھ کے دینِ اسلام کی طرف لے کے آؤں۔جس طرح دنیا کی کوئی طاقت مجھے ( محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان ہے ) اور پھر ہر امتی کی طرف سے، ہر وہ جاں نثار جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فدائی ہے، ہر وہ شخص جو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اپنی زندگی گزار رہا ہے وہ یہ کہتا ہے کہ میں تو اس راہ کو نہیں چھوڑوں گا جس راہ پر مجھے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم نظر آتے ہیں۔تم جو مرضی کرتے رہو اور جس کی چاہو عبادت کرو لیکن ایک بات سن لو کہ پوری طرح گھاٹے میں پڑنے والے لوگ وہی ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو بھی اور اپنے رشتہ داروں کو بھی قیامت کے دن گھاٹے میں ڈالا اور اچھی طرح یا درکھو کہ قیامت کے دن گھاٹے میں پڑنا، یہ کھلا کھلا گھاٹا ہے اور اس سے زیادہ کسی کو نقصان اور گھاٹا پڑ نہیں سکتا اور اس سے بڑا عذاب کوئی ہو نہیں سکتا اور اس سے بڑا کوئی دکھ نہیں کہ خدا تعالیٰ سے انسان دور ہو جائے۔إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسلام خدا تعالیٰ کے نزدیک اسلام ہی دین ہے۔اسلام کے علاوہ اور کوئی دین نہیں اور ہم احمدی اپنے دین پر قائم ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت ہمیں اس راستہ سے ہٹا نہیں سکتی۔زبر دستی کر کے نمازیں نہیں چھڑوا سکتی۔ہم سے روزے نہیں چھڑوا سکتی نیز دیگر جو سات سواحکام ہیں انہیں نہیں چھڑوا سکتی اور وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دینا(ال عمران :۸۲) جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور دین پسند کرے گا وہ اپنے لئے یا کسی اور کے لئے فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ (ال عمران :۸۲) دینِ اسلام کے سوا کوئی اور دین خدا تعالیٰ کو مقبول نہیں ہے، پسندیدہ نہیں ہے۔وَ هُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَسِرِينَ (آل عمران : ۸۲) اور وہ قیامت کے دن گھاٹے میں پڑے گا۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحہ ۷۳ تا ۷۸) آیت 19 الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أُولَبِكَ الَّذِينَ هل بهم اللهُ وَأُوتِيكَ هُمْ أُولُوا الْأَلْبَابِ۔يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ انسان! انسان کا یہ فرض تھا۔انسان کی پیدائش کی یہ غرض اس کی زندگی کا یہ مقصد