انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 114 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 114

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۱۱۴ سورة يس شخص اتنا امیر ہوتا کہ اس کو دنیا کی کوئی ضرورت پیش ہی نہ آتی۔اگر ہر شخص اتنا عالم ہوتا کہ کسی استاد کے پاس جانے کی اسے ضرورت ہی نہ رہتی۔اور اگر ہر شخص ہرفن میں اتنا کمال رکھتا کہ ڈسٹری بیوشن آف لیبر جس پر ہماری انسانی اقتصادیات کی بنیاد ہے کی ضرورت ہی پیدا نہ ہوتی۔وغیرہ۔تو ثواب کا کون سا موقع باقی رہ جاتا؟؟؟ اللہ تعالیٰ بے شک اس بات پر قادر ہے کہ ہر انسان کو ایسا بنا دے لیکن اس نے اسے ایسا نہیں بنایا۔اس لئے کہ اس نے انسان کے لئے صرف اسی دنیا کی زندگی ہی نہیں بلکہ مرنے کے بعد ایک اور زندگی بھی مقدر کی ہوئی ہے اور اُخروی زندگی کے پیش نظر ایسا معاشرہ انسان کے لئے مقررفرمایا کہ ہر طبقہ کے لوگ اس معاشرہ کے اندر رہ کر زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کرتے چلے جائیں اور اس طرح اس کی خوشنودی کو پوری طرح پاسکیں لیکن کا فرلوگ ان باتوں کو نہیں سمجھتے اس لئے جب ان کو کہا جاتا ہے کہ ضرورت مندوں کی ضرورتوں کو پورا کرو اور محتاجوں کے لئے روز مرہ زندگی کی ضروریات مہیا کرو تو وہ کہتے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ نے انہیں کھانے کو نہیں دیا تو تم ہم سے کیسے توقع رکھتے ہو کہ ہم خدائی فعل کے خلاف ان کو کھانے کے لئے دیں۔ان کا کافرانہ دماغ عجیب بہانہ تراشتا ہے۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۴۹،۴۸)