انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 113
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۱۱۳ سورة يس بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة ليس آیت ۴۸ وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ انْفِقُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللهُ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْطْعِمُ مَنْ لَوْ يَشَاءُ اللَّهُ أَطْعَمَةَ إِنْ اَنْتُمْ إِلَّا فِي ضَللٍ مُّبِينٍ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ ضرورت مندوں کو کھانا کھلاؤ اور ان کی غذائی ضرورتوں کو پورا کرو تو کافر لوگ کہتے ہیں کہ کیا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں۔اگر خدا چاہتا تو جیسا اس نے ہمیں دیا تھا انہیں بھی وہ کھانے کو دے دیتا تم تو خدائی فعل کے خلاف ہمیں تعلیم دے رہے ہو اور اس وجہ سے ہم تمہیں کھلی گمراہی میں پاتے ہیں۔بجائے اس کے کہ وہ یہ سمجھتے کہ خدا تعالیٰ نے بعض انسانوں کے لئے بعض نیکیوں کے مواقع بہم پہنچانے ہوتے ہیں۔اس لئے اس نے انسانی معاشرہ کو اس طرح بنایا ہے کہ ہر ایک شخص نیکیوں سے حصہ وافر لے سکے۔انہوں نے اس سے الٹا نتیجہ نکالا حالانکہ بعض نیکیاں ایسی ہیں جن کے کرنے کا موقع زیادہ تر غرباء کو ہی ملتا ہے۔مثلاً اپنے حالات پر صبر کرنا، قناعت سے کام لینا وغیرہ وغیرہ۔جن لوگوں کو خدا تعالیٰ نے رزق کثیر دیا ہوتا ہے اور انہیں مالی تنگی کا سامنا نہیں ہوتا وہ اس قسم کے صبر کا ثواب حاصل نہیں کر سکتے جو صبر ایک غریب آدمی تنگی ترشی کے زمانہ میں دکھاتا ہے۔خدا تعالیٰ نے ہمارے معاشرہ میں اونچے نیچے، امیر غریب، عالم، جاہل وغیرہ وغیرہ ہر قسم کے طبقات بنادیئے ہیں تا کہ ہم اپنے اپنے مقام کے لحاظ سے ہر قسم کی نیکیاں کرتے چلے جائیں۔اگر ہر