انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 617
۶۱۷ سورة القصص تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث ملاوٹ نہیں اور نفاق نہیں اور فساد نہیں ہوتا اور اعمال صالحہ بجالاتا ہے اور یہ سب کچھ کرنے کے بعد و علی رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُون وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہی کافی نہیں، جب تک خدا تعالیٰ اپنے فضل اور رحمت سے خاتمہ بالخیر نہ کرے اور اپنے فضل اور رحمت سے جنتوں کے سامان نہ پیدا کرے محض اعمال کوئی چیز نہیں۔غرض جب خدا تعالیٰ کی طرف سے انسان کی ترقیات کے لئے آسمانی ہدایت بھیجی جاتی ہے تو دنیا دو گروہوں میں بٹ جاتی ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اور قرآن کریم جیسی عظیم ہدایت انسان کے ہاتھ میں دی گئی تو آپ کی اس عظمت و شان کے باوجود پھر بھی سارے ہی انسان ایسے نہیں تھے جنہوں نے آپ کو قبول کیا اور قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق زندگیاں گزارنے لگے۔یہ تو بڑا لمبا مضمون ہے جو بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ فضل کرتا ہے اور انسان کی کوشش کو قبول کر لیتا ہے یعنی انسان کی بعض چھوٹی چھوٹی کوششیں ہیں جو مقبول ہوکر انسانی مغفرت کا باعث بن جاتی اور اس کی ترقیات کا زینہ ٹھہرتی ہیں اور بعض دفعہ انسان کی ذرا ذرا سی لغزش اسے خدا تعالیٰ کے دربار سے دھتکار کر پرے پھینک دیتی ہے۔یہ ساری باتیں قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں۔قرآن کریم ہمارے لئے کامل ہدایت ہے اس کے بعد ہمیں کسی اور ہدایت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔پس انسانوں کی دو جماعتیں یا دو گروہ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ذکر کیا ہے۔ایک وہ گروہ ہے جن کو متاع زندگی اور زینت حیات خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا کی گئی اور انہوں نے یہ سمجھا کہ گویا وہ اس کے حقدار تھے، اس دنیا میں مزے لوٹنے کے لئے انہیں یہ چیزیں عطا کی گئی ہیں اور مزہ لوٹنا بھی کیا جس کا انجام تبا ہی ہے۔دنیا کی خوشیاں اور عیش اس دنیا میں بھی انسان کی تباہی کا باعث بنتے ہیں مثلاً جسمانی طاقتیں ہیں۔دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو عارضی لذتوں کی خاطر خدا داد طاقتوں کا غلط استعمال کرتے ہیں اور ہمیشہ کے لئے اس دنیا کی بقیہ زندگی میں نہایت مہلک بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں یا ان کی صحت ایسی گر جاتی ہے کہ اس دنیوی زندگی کا بھی کوئی لطف ان کے لئے باقی نہیں رہتا۔اس لئے اصل مسرت اور لذت تو وہی ہے جو خدا تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت کی روشنی یعنی قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنے کے نتیجہ میں انسان کو حاصل ہوتی ہے۔وہی سرور حقیقی سرور ہے اس دنیوی زندگی میں بھی اور وہی سرور اُخروی زندگی میں ایک اور شکل میں انسان کے وجود کو اور اس کی روح کو ملے گا