انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 542 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 542

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۴۲ سورة الحج سے باہر دوسری اقوام میں ایسی قومیں بھی ہیں جو سور کا گوشت اور چربی نہیں کھاتیں اور بداخلاقی میں شاید دوسروں سے بھی بڑھی ہوئی ہیں اور وجوہات بیچ میں آتی ہیں ہزار ہا ایسی چیزیں ہیں جن سے بچنے کی کوشش انسان کو کرنی چاہیے وہ نہیں بچتے۔تو جسمانی طاقت کی نشوو نما کے لئے خدا تعالیٰ کے احکام کی پیروی کرنا ضروری ہے ورنہ جسمانی طاقتوں کے استعمال میں غلطیاں سرزد ہو جائیں گی۔خدا تعالیٰ نے یہ ایک بہت بڑا نظام قائم کیا ہے۔ایک دوسرے کے ساتھ اس کا ملاپ ہے اور بڑا زبر دست ملاپ ہے۔خدا تعالیٰ نے انسان کو اخلاقی طاقتیں بھی دیں۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ اعلان کیا کہ انسان کو جو اخلاقی صلاحیتیں دی گئیں، ان کا تعلق ہر دوسرے انسان کے ساتھ ہے۔رحمتہ للعالمین ہمارے لئے یہ پیغام الہی لے کر آئے۔پس انسان کو جو اخلاقی طاقت دی گئی ، اس کا استعمال رحمتہ للعالمین کے نقش قدم پر چلنے کے ساتھ ہونا چاہیے یعنی کسی میں امتیاز نہ کیا جائے۔مسلم و کافر میں امتیاز نہ کیا جائے مثلاً ہر ایک کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آیا جائے۔مثلاً سینکڑوں اخلاقی باتیں بیان کی گئی ہیں۔ایک دو مثالیں دوں گا۔مثلاً یہ نہیں کہا کہ صرف مسلمان پر افتر امسلمان نہ کرے۔یہ کہا ہے کسی انسان پر بھی افتر انہیں کرنا۔کسی پر تہمت نہیں لگانی۔خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم کوئی امتیاز اور فرق نہیں ہے۔پس جو اخلاقی طاقتیں ہیں، ان کا جو استعمال ہے ان کا جو مظاہرہ ہے وہ ایک نمونہ ہے ہمارے سامنے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا۔اس نمونہ کے مطابق ہماری طاقتوں کا مظاہرہ ہونا چاہیے یعنی مسلم و کافر کے درمیان کوئی امتیاز کئے بغیر ہم ہر ایک کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والے اور ہر ایک کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنے والے ہوں۔وَجَاهِدُوا اپنے نفسوں کی تربیت کے لئے انتہائی کوشش کرو۔وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ اس آیت میں آیا ہے یعنی ایسی کوشش کہ جس کو خدا تعالیٰ کی نگاہ بھی صحیح اور حقیقی کوشش سمجھے۔دوسرا جہاد جو بیان ہوا وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کو جب ایک مومن، ایک مسلم ، ایک مقرب الہی خدا تعالیٰ کی رحمتوں اور فضلوں کو حاصل کرنے والا مسلمان دیکھتا ہے تو اس بات پر خوش نہیں ہوتا کہ مجھے ملیں اور دوسرے کو نہیں ملیں بلکہ اس بات پر رنجیدہ ہوتا ہے کہ جو لوگ دائرہ اسلام سے باہر ہیں، وہ خدا تعالیٰ کے ان فضلوں اور خدا تعالیٰ کی ان رحمتوں سے، اپنی بداعمالیوں کے نتیجہ