انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 504 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 504

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۰۴ سورة الانبياء پس ضرورت ہے انسان کو ایک ایسی جماعت اور ایک ایسے الہی سلسلہ کی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کو اور آپ کے اعمال کو اور آپ کی زندگی کو اپنے لئے بطور نمونہ کے بنائے اور اس رَحْمَةٌ لِلْعَلَمین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وہی رنگ اپنے پر چڑھاتے ہوئے ، انہی کے اشاروں پر اپنے فیصلے کے دھاروں کو موڑتے ہوئے بنی نوع انسان کے لئے بڑی کثرت کے ساتھ دعائیں کرنے والا ہو۔(خطبات ناصر جلد اول ۵۸۸ تا ۵۹۰ ) ہم نے تجھے عالمین کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔یہ فقرہ تو بہت چھوٹا ہے لیکن اس کے معانی نے دنیا کی ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام پہچاننے کے لئے اور آپ کی عظمت اور آپ کے جلال کو جاننے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہمارے ذہن میں یہ بات حاضر ہو کہ آپ کس معنی میں اور کن کے لئے رحمت ہیں۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کی شکل میں جو تعلیم آپ کے ذریعہ انسان کو دی جب ہم اس پر غور کرتے ہیں تو ہمیں وہ عجیب کتاب نظر آتی ہے جسے ہم قرآنِ عظیم کہتے ہیں یا ہم قرآن کریم کہتے ہیں یا ہم قرآن مجید کہتے ہیں۔ہر بات جس کی انسان کو ضرورت تھی جس کے نتیجہ میں انسان نے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا علم حاصل کرنا تھا اور ان سے حصہ لینا تھا ، وہ را ہیں جن پر چل کر انسان نے خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنا تھا وہ سب اس عظیم کتاب میں بیان ہوگئی ہیں۔قرآن کریم نے جو یہ کہا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ بنا کر بھیجا گیا ہے۔مَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ یہ کس معنی میں ہے کیونکہ اصل مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمتوں اور اس کی عظیم صفات کا اس کی کبریائی اور جلال اور عظمت کا عرفان دیا جائے اس لئے ضروری ہے کہ ہمیں یہ علم ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کس معنی میں رحمت ہو کر آئے۔قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ کی رحمت اس کی دوصفات کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے، ایک اس کی رحمانیت ہے اور دوسرے اس کی رحیمیت ہے۔خدا رحمان بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔اس کی رحمان ہونے کی صفت کا ربوبیت کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے۔دنیا کی ہر چیز جس کو پیدا کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ اس کی پرورش کرتا ہے اور ایسے سامان پیدا کرتا ہے کہ وہ انسان کے لئے فائدہ مند بن جائے کیونکہ ہر چیز انسان کے لئے پیدا کی گئی ہے۔پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم اور آپ