انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 503
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۰۳ سورة الانبياء زندگیاں قربان کر رہے ہوں۔ہمارا جو جماعت احمدیہ کی طرف منسوب ہوتے ہیں ویسے تو ہر کام ہی ، ہر منصوبہ ہی ، ہر کوشش ہی اور ہر جدو جہد ہی بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے ہے لیکن ان تمام کوششوں اور ان تمام تدابیر کے علاوہ اس وقت دنیا کو ہماری دعاؤں کی بڑی ہی ضرورت ہے۔دور حاضر کا انسان بڑا مغرور ہو گیا ہے اور جو نعمتیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس کو عطا کی تھیں اس علم اور فراست کے نتیجہ میں جو آسمان سے ہی آتا ہے اسے وہ اپنی بھلائی کے لئے اور بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے خرچ کرنے کی بجائے اس پر اترانے لگا اور مغرور ہو گیا ہے اس حد تک کہ اسے یہ بھی پسند نہیں کہ اس کے لئے اس کا خدا فیصلہ کرے۔وہ چاہتا ہے کہ خود اپنے ہاتھ سے ہی اپنے فیصلے کرے۔اگر وہ اپنے رب کے فیصلے پر راضی ہو جاتا تو آج اس تباہی کی طرف درجہ بدرجہ اس کی حرکت نہ ہوتی جس تباہی کی طرف ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ جارہا ہے۔پس اس انسان کو جسے اللہ تعالیٰ نے طاقت دی اور اپنی عطا سے نوازا اور جس کی آواز اور جس کے فیصلے میں اثر رکھا اور جس کا صحیح فیصلہ بنی نوع انسان کو ترقی کی راہوں پر لے جا سکتا ہے لیکن جس کا غلط فیصلہ تمام بنی نوع انسان کے لئے ہلاکت کا خطرہ بھی پیدا کر سکتا ہے۔وہ خود فیصلہ کرنا چاہتا ہے اپنے رب کا فیصلہ اسے منظور نہیں کیونکہ اگر اسے اپنے رب کا فیصلہ منظور ہوتا تو آج وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے آ جمع ہوتا جو رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِینَ کا جھنڈا ہے اور جہاں جمع ہو کر وہ اس فیصلے کی طرف کان دھرتا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے حالات میں دیا تو ہلاکت اس کے سامنے منڈلا نہ رہی ہوتی بلکہ امن کے ساتھ سب مسائل کا حل ہو جاتا۔دوسری طرف وہ خود کو بے بس اور لا چار بھی پاتا ہے اور عطاء الہی کو اپنی ہلاکت کے لئے استعمال کرنے پر ملا ہوا ہے اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کیا کروں اور کس طرح فیصلہ کروں کہ عالمگیر تباہی سے خود بھی بچوں اور بنی نوع انسان کو بھی بچالوں۔پس خدائی فیصلے کی طرف کان دھرنے کے لئے تیار نہیں خود کو صحیح فیصلے تک پہنچنے کے وہ قابل نہیں پاتا ہلاکت اس کے سامنے ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل آسمان سے نازل نہ ہو تو اس وقت انسانیت اس قسم کے خطرات سے گھری ہوئی ہے کہ اس قسم کے خطرات میں آج سے پہلے وہ کبھی نہ گھری تھی۔