انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 476
سورة طه تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ہے۔انسان کی ہر شاخ اس کا خلق ہے نا۔اس کی ہر قوت اور استعداد ہے اور یہی مضمون یہاں بیان ہونا تھا حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہ اے کامل قوتوں والے انسان! تجھے استعداد میں کامل دی گئی تھیں۔کامل پرورش کا ، کامل تربیت کا سامان خدا تعالیٰ نے تیرے لئے کیا تا کہ تو بنی نوع انسان کے لئے اسوہ حسنہ بن جائے۔مَا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى یہاں کامل انسان ہی مراد ہے۔قرآن کریم کی تعلیم جو تجھ پر نازل ہوئی خُلُقُهُ الْقُرْآنُ وہ اس لئے نہیں تھی کہ تو دکھ میں پڑے بلکہ اس تعلیم نے تیری ساری قوتوں اور استعدادوں کی کامل نشو و نما کر کے دوسرے پہلو کو بھی کامل کر دیا۔اگر مخاطب انسان ہوتا اور کہا جاتا مَا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشفی یعنی کوئی مخاطب ہوتا۔زید بکر کوئی ہوتا اور وہ عام درمیانے درجے کا انسان ہوتا تو شیطان یہ وسوسہ پیدا کر سکتا تھا کہ قرآن کریم نے صرف یہ دعوی کیا نا کہ جتنی طاقتیں محدود، کم ، اس انسان کے اندر تھیں ان کی نشوونما کا سامان قرآن کریم میں ہے۔جب ہر قوت اور استعداد کی نشوونما کا سامان قرآن کریم میں ہے یہ دعویٰ کیا گیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے تو وہ انسان جن کی قوتیں اور استعدادیں بعض پہلوؤں سے ایک میں، بعض اور پہلو دوسرے میں، بعض اور پہلو جو کم ہیں ان کو بھی کوئی خطرہ نہیں کہ ہماری نشود نما نہیں ہوگی۔تمہاری استعدادوں کی بھی نشوونما ہوگی۔جب ہر استعداد انسانی کی نشوونما کا سامان ہے تو تمہاری استعداد کی نشوونما کا بھی سامان ہے۔فرما یا اِلَّا تَذْكِرَةً لِمَنْ يَخْشَى دکھ کا سامان نہیں قرآن کریم میں بلکہ جس شخص کے دل میں اللہ تعالیٰ کی خشیت ہے اس کی راہنمائی اور ہدایت اور اس کی عزت کے قیام کا ، عزت کو بلند کرنے کا سامان ہے اس میں۔پھر فرمایا تَنْزِيلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْأَرْضَ والسموات العلیٰ یہ آیت بیچ میں ایک دوسری آیت اسی کی ترتیب میں آگئی تھی لتشفی کے ساتھ یسپلینیشن (Explanation) اسی مضمون کو واضح کرنے کے لئے ویسے اَنْزَلْنَا کا تعلق تَنْزِیلا سے ہے۔یہ قرآن کریم جو تجھ پر نازل کیا تجھے ہر دُکھ سے بچانے والا ہے، دکھ کا سامان پیدا کرنے والا نہیں۔اس آیت میں دکھ کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ انسان اپنی کسی قوت اور استعداد کی صحیح نشوونما نہ کر سکے یہ دُکھ ہے مثلاً آدمی بیمار ہو جاتا ہے تو وقتی طور پر جسمانی نشوونما میں فرق پڑ جاتا ہے۔جسمانی طاقت میں کچھ کمی پیدا ہو جاتی ہے۔جو قوت مدافعت کا لفظ طبیب استعمال کرتا ہے اس میں کمی پیدا ہو جاتی ہے تو دُکھ کے سامان پیدا ہو جاتے ہیں۔اگر قوتِ مدافعت اپنے کمال میں ہو تو