انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 475
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۴۷۵ سورة طه بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة طه آیت ۱ تا ۵ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِ طه مَا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى إِلَّا تَذْكِرَةً لِمَنْ يَخْشَى ل تَنزِيلًا مِمَّنْ خَلَقَ الْأَرْضَ وَالسَّمَوتِ الْعُلَى یہاں مخاطب ایک ہے انسان نہیں مخاطب۔طہ میں ایک فردِ واحد مخاطب ہے اور وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور یہ آپ کی شان اور عظمت آپ کے اندر رکھی اپنی رحمت سے، نوع انسان کے لئے رحمت بن کے آئے۔ان کو مخاطب کر کے یہاں کہا گیا ہے کہ اے کامل انسان ! یعنی جو استعداد کے لحاظ سے ایسا ہے کہ کسی اور انسان میں خدا تعالیٰ نے یہ استعداد نہیں رکھی جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں رکھی گئی ہے۔اور دوسرا پہلو اس کا یہ ہوتا ہے کہ جو قو تیں اور استعدادیں ملی تھیں ان کی صحیح اور کامل نشود نما ہوئی یا نہیں ہوئی ایک شخص کی۔اب میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ہٹ کے بات کرتا ہوں۔آج ایک بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے اندر بڑی استعداد میں ہیں لیکن ماں باپ خیال نہیں رکھتے۔وہ گلی میں جاتا ہے، اپنے ہمسایوں سے ملتا ہے اور آوارگی کی اس کو عادت پڑ جاتی ہے اور وہ بچہ جو ذہن رکھتا تھا ایسا کہ جب وہ ایم۔ایس۔سی کا امتحان دیتا تو فرسٹ آتا وہ میٹرک میں فیل ہو جاتا ہے۔تو استعداد کے لحاظ سے بڑی استعدادی طاقتیں تھیں لیکن عملاً نشو و نما نہیں ہو سکی۔تو یہاں طلہ میں ہر دو پہلو میں کمال ہے۔استعداد کے لحاظ سے کامل اور نشوونما کے لحاظ سے کامل۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑا ایک لطیف فقرہ ایک جگہ لکھا ہے کہ اسلام کی تعلیم درخت وجو دانسانی کی ہر شاخ کی پرورش کرتی ہے اور اسے ثمر آور بناتی -