انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 468 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 468

۴۶۸ سورة الكهف تفسیر حضرت خلیفہ اسیح الثالث ہوئے ہوسکتا ہے کسی کے حصہ میں اللہ تعالیٰ کا پیار شاید کم آئے اور کسی کے حصہ میں زیادہ لیکن ہر ایک کو خدا تعالیٰ کا پیار میسر آجاتا اور اس کی رضا حاصل ہو جاتی ہے۔خدا کرے کہ بنی نوع انسان کا ہر فرد اس حقیقت کو سمجھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ کے الفاظ میں جو عظیم الشان اعلان کروایا گیا ہے ہر انسان اس ندا پر کان دھرے اور اپنی زندگی میں ہرلمحہ یہ کوشش کرتا رہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اس کو حاصل ہو۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۸۰۴ تا ۸۱۵) یہ جو غریب غیر مسلم ہیں ان پر تو اسلامی تعلیم کا پہلا اصول ہی بڑا کارگر ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان انسان میں کوئی فرق نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے کہلوا دیا کہ قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشر مثلکم کہ میرے اور تمہارے درمیان بشر ہونے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو یہ کہیں کہ میرے اور تمہارے درمیان بشر ہونے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں مگر کتنے ہیں جو یہ سمجھیں کہ ہاں ہمارے اور تمہارے درمیان بھی بشر ہونے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں۔کمزور ،لاچار، ہر لحاظ سے مادی آلائشوں میں گھرا ہوا اور دلدل میں پھنسا ہوا انسان اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگ جاتا ہے۔خدا تعالیٰ ان شیطانی حملوں سے ہمیں محفوظ رکھے۔غرض ان لوگوں کو اسلام نے گلے سے لگایا۔(خطابات ناصر جلد دوم صفحه ۱۹۶) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبَّةٍ اَحَدًا پس جو شخص چاہتا ہے کہ اسی دنیا میں اور اسی زندگی میں خدا تعالیٰ کا وصال اسے حاصل ہو جائے تو وہ ایسے اعمال بجالائے جن میں فساد کا کوئی شائبہ نہ ہو، فساد کی کوئی ملونی ان کے اندر نہ ہو ( یہ عملاً صَالِحًا کے معنے ہیں ) اور اس کے اعمال میں شرک کا کوئی حصہ نہ ہو۔شرک صرف موٹا موٹا شرک ہی تو نہیں بلکہ انسان کے صحن سینہ میں ہزار بت بعض دفعہ جمع ہو جاتے ہیں۔اپنے نفس کو ان بتوں سے بچانا اور اپنے سینہ کو ان بتوں سے پاک کرنا اور اپنے خیالات کو شرک سے پاک رکھنا، اپنے اعمال کو شرک سے پاک کرنا، اپنے ماحول کو شرک سے پاک کرنا، اپنی دنیا کو شرک سے پاک کرنا اور ہر لحاظ سے لا يُشْرِكُ پر عمل کرنا ضروری ہے اور اگر ایسا ہو تو پھر اس دنیا میں بھی اللہ تعالی کی لقا انسان کو حاصل ہو جاتی ہے اور یہی ہماری زندگی کا مقصد ہے۔( خطبات ناصر جلد ہفتم صفحہ ۲۶۱،۲۶۰) مثلاً جب سوچ اور فکر بہک گئی تو سپر مین (Super Man) کا تصور پیدا ہو گیا۔یعنی ایسا