انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 467
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۴۶۷ سورة الكهف عزت و احترام کا وہ درجہ نہیں دیتے جو خدا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے دیا ہے تو آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام مؤثر طریق پر ان کے کانوں تک کیسے پہنچا سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں احسن تقویم کی صورت میں پیدا کیا ہے یا یہ کہ تم بشریت کے مقام سے سرفراز ہوئے لیکن تمہاری آخری منزل یہ نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس غرض کے لئے پیدا نہیں کیا، تمہیں روحانی منزلیں طے کرنے کیلئے پیدا کیا گیا ہے اور ان کی تو کوئی انتہا ہی نہیں کیونکہ جب خدا تعالیٰ اپنی ذات اور صفات میں بے انتہا اور وراء الوراء ہے تو ظاہر ہے اس کے قرب کے بھی لامحدود درجے اور منازل ہیں۔کسی بھی مقام پر جا کر وہ ختم نہیں ہوتے۔پس اس نہ ختم ہونے والی منزل پر انسان کا ہر قدم جو پڑتا ہے اور ہر ساعت جو گزرتی ہے وہ اس کی زندگی کی بلکہ سارے انسانوں کی زندگیوں کی ساری لڈتوں اور سرور سے زیادہ اچھی ہوتی ہے۔وہ زیادہ خوشی پہنچانے والی ہوتی ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ کے پیار کی جھلک دنیا کے پیار اور محبت سے کہیں برتر اور اعلیٰ ہوتی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے پیار اور محبت کا مقابلہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔بہر حال آپ بنی نوع انسان تک یہ پیغام پہنچا نہیں سکتے جب تک پہلے آپ اس کو یہ خوشخبری نہ دے دیں کہ دیکھو إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُم کا اعلان کر دیا گیا۔ایک عظیم الشان بشارت انسان کو مل چکی۔احسن تقویم کا مقام اسے حاصل ہو گیا۔ہر انسان خواہ وہ دنیا کے کسی بھی خطہ میں پیدا ہوا ہو خواہ وہ کسی بھی زمانہ سے متعلق ہو انسانی شرف اور مرتبہ ہر دوسرے انسان کے مساوی اور برابر ہے۔کوئی انسان دوسرے انسان سے برتر نہیں کسی کے متعلق زیادہ معزز اور کم معزز کا فقرہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔جب انسان اپنا یہ مقام پہچان لیتا ہے تو گویا وہ ایک ایسے دور میں داخل ہو جاتا ہے جس میں داخل ہونے کے بعد انسانی عزت قائم ہو جاتی ہے اُسے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو جاتی ہے لیکن اگر انسان اس دور میں داخل ہو کر اس دور کی ذمہ داریوں کو نہیں نباہتا اور فطرت کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا تو وہ اللہ تعالیٰ کے قہر اور غضب اور نفرت اور حقارت کا مستوجب ٹھہرتا ہے۔اس کے برعکس اگر تمہاری فطرت اگر تمہاری روح اس کو برداشت نہیں کرتی تو پھر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اس سیر روحانی کو شروع کرو۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس شاہراہ پر قدم بقدم رفعتوں کے حصول کے بعد خدا تعالیٰ کے انتہائی قرب کو پایا وہی راہ ہم سب کے لئے کھلی ہے۔اس راہ پر چل کر ہم بھی اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر سکتے اور اس کے غضب سے بچ سکتے ہیں۔اس راہ کو اختیار کرتے