انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 411
تفسیر حضرت خلیفۃ المسح الثالث ۴۱۱ سورة النحل نے پایا ہے آپ کے دوسرے بھائی بھی اسے پائیں اور اسے سمجھیں اور اس سے فائدہ اُٹھا ئیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے وہ بھی وارث ہوں۔اس کے لئے آپ کو اظہار کرنا پڑتا ہے زبان سے بھی، اشاروں سے بھی بعض دفعہ خاموشی سے بھی اور تحریر سے بھی اور عمل سے بھی۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے دل میں ایک زبردست خواہش پیدا ہوگی کہ وہ جنہوں نے اسلام کی صداقت کو قبول نہیں کیا اور اس کی حقانیت کو نہیں سمجھا اور اس کی روح کو حاصل نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ کی معرفت سے وہ محروم ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابدی فیوض سے وہ نا واقف ہیں یہ لوگ بھی ان تمام باتوں کو سمجھیں اور پہچانیں اور اس زندگی اور اُس زندگی کی بہبود کا اور کامیابی اور فلاح کا سامان پیدا کریں ہم انہیں یہ کہتے ہیں کہ تم اپنے رب کے راستہ کی طرف ان لوگوں کو ضرور بلاؤ لیکن یاد رکھو کہ یہ دعوت ( الى سَبِيلِ رَبِّكَ ) حکمت اور موعظہ حسنہ کے ساتھ ہونی چاہیے۔حکمت کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ علم اور عقل کے ذریعہ حق کو درست پایا اور احقائق حق کے لئے علمی اور عقلی دلائل دینا ( جن سے قرآن عظیم بھرا ہوا ہے ) پس اللہ تعالیٰ یہاں یہ فرماتا ہے کہ علمی اور عقلی دلائل ان لوگوں کے سامنے رکھو جو اپنے رب کو پہچانتے ہیں دوسرے معنی حکمت کے قرآن کریم اور اس کے مضامین اور اس کی تفسیر کے ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ قرآن کریم میں بہت سے روحانی علمی اور عقلی دلائل رکھے گئے ہیں اور وہی مضبوط تر اور بہتر دلائل ہیں یعنی تم قرآن کریم کے ذریعہ اپنے رب کے راستہ کی طرف مخلوق خدا کو بلاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے (اور یہ تیسرے معنی ہیں) کہ الصَّيْتُ حُكُمْ وَقَلِيلٌ فَاعِلُهُ (مفردات راغب میں ہے کہ یہاں حکم سے مراد حکمت ہے ) اور آپ نے یہ فرمایا کہ خاموشی بھی بعض دفعہ حکمت میں شامل ہوتی ہے لیکن کم ہیں جو اسے سمجھتے اور اس پر عمل کرتے ہیں جس وقت مخالف اسلام اپنی مخالفت میں بڑھ جاتا ہے اور امن کی فضا کو مکدر کر کے فتنہ و فساد کو پھیلانا چاہتا ہے اُس وقت اُدْعُ إلى سَبِيلِ رَبَّكَ بِالْحِكْمَةِ کے یہ معنی ہوں گے کہ اس کے جواب میں خاموشی اختیار کر کے اللہ تعالیٰ کی راہ کی طرف تم بلاؤ کیونکہ خاموشی بھی ایک بلیغ زبان ہے جو بسا اوقات بڑی ہی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔