انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 394
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۹۴ سورة النحل میرا خیال ہے کہ سوڈیڑھ سو سال تک پادری مختلف ملکوں میں یہ اعتراض کرتے رہے۔ہماری بدقسمتی ہے کہ مسلمانوں میں سے ایسے سکالر پیدا نہیں ہوئے جو اس کے متعلق تحقیق کرتے لیکن خود عیسائی محقق عالموں نے شہد کی مکھی پر تحقیق کی اور اب پتہ لگا ہے کہ شہد کی مکھی جو شہد بناتی ہے اُس میں پچاس فی صد سے زیادہ اس کے اپنے جسم کے غدود میں سے جو سیکریشن (Secretion) یا مادہ نکلتا ہے وہ اس نے شہر میں شامل کیا ہوتا ہے اور شہد کے یا اس کے چھتے کے جو مفید اور صحت مند حصے ہیں وہ سارے شہد کی مکھی کے اپنے ہیں وہ پھول کے ٹیکٹر (Nectar) میں سے یہ لے کر نہیں آ رہی ، چھ قسم کے اینٹی بائیوٹکس ہیں پنسلین وغیرہ وغیرہ کے نام آپ نے سنے ہوں گے اب تو زمیندار بھی کہتے ہیں کہ سووا لگاؤ تو ہمیں آرام آئے گا ورنہ نہیں۔یعنی وہ ٹیکوں وغیرہ سے واقف ہو گئے ہیں لیکن اب دریافت ہوا ہے کہ شہد کی مکھی جو اینٹی بائیوٹکس یعنی زہر کش چیزیں بنارہی ہے انسان ابھی تک ان کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکا اور نہ پہنچ سکتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس کے اندر یہ چیز رکھی ہے اور وہ خدا تعالیٰ کے علم کامل اور اس کی وحی کے ذریعہ سے یہ کام کر رہی ہے۔أوحى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ خدا تعالیٰ نے مکھی کو وحی کی کہ یہ کام کر۔پھر ہر قسم کے اینٹی بائیوٹک کی ایمونٹی (Immunity) ہو جاتی ہے یعنی بیماری کے کیڑوں کو دوائی کی عادت پڑ جاتی ہے لیکن اب کوئی پچھلے دس پندرہ سال میں یہ پتہ لگا ہے کہ شہد کی مکھی ایک جرم کش بناتی ہے کہ جو بیماری کے سارے کیڑے مار دیتا ہے اور پھر کوئی ایمونٹی (Immunity) پیدا نہیں ہوتی۔یعنی یہ نہیں ہے کہ پھر کہیں کہ جی اب یہ دوائی دو گے تب بھی کیڑے نہیں مریں گے بلکہ اگر نیا حملہ ہوگا تو یہ اس کے کیڑوں کو بھی مار دے گا۔اور انسان کا وہ حصہ جو Unfortunately ، بدقسمتی سے اپنے خدا تعالیٰ کی رحمتوں سے محروم بھی ہے، جو حقیقی رحمتیں ہیں لیکن لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَطی (النجم:۴۰) کے وعدہ کے نتیجہ میں جن میدانوں میں انہوں نے کوشش کی ان میں ترقیات بھی انہوں نے کیں، وہ آگے بڑھ رہے ہیں اور ان کی یہ ڈسکوریز (Disvovries) جو ہیں ،نئی سے نئی معلومات جو ہیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو حقیقت ہمارے سامنے رکھی ، اس کو ظاہر کر کے ہمارے سامنے پیش کر رہی ہیں۔قرآن کریم نے کہا تھا کہ شہر میں تمام بیماریوں کا علاج موجود ہے۔معترض نے اعتراض کیا تھا یہ تو (خطابات ناصر جلد دوم صفحه (۱۰۹)