انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 393
تفسیر حضرت خلیفتہ المسح الثالث ۳۹۳ سورة النحل میں احمدی میرے پاس آ جاتے ہیں اور میں انہیں تسلی دیتا ہوں اور تسلی دینے کا ایک سب سے بڑا ذریعہ یہ ہے کہ میں چھوٹے بچوں سے پوچھتا ہوں کہ بتاؤ تمہیں کبھی سچی خواب آئی ؟ تو بلا استثناء ہر بچہ مجھے یہی جواب دیتا ہے کہ ہاں آئی ہے اور کئی ایک سے پوچھ بھی لیتا ہوں کہ کیا آئی۔بچے کو تو اپنی عمر کے لحاظ سے سچی خواب آئے گی۔بچے کو اپنی عمر کے لحاظ سے یہ خواب تو نہیں آ سکتی جس طرح مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عظیم پیشگوئی بتائی گئی تھی کہ زار بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑی باحال زار۔یہ اور اسی قسم کی اور بہت سی پیشگوئیاں ایسی ہیں جو مہدی علیہ السلام کے کان میں پڑسکتی ہیں ہمارے بڑے لوگوں کے کانوں میں بھی نہیں پڑ سکتیں چہ جائیکہ ایک بچے کے کان میں پڑیں۔چنانچہ بچہ کہے گا کہ میں نے یہ خواب دیکھی تھی کہ میری بھینس بچہ دینے والی ہے اس نے کٹا دینا ہے اور پھر مہینے بعد بھینس نے جو بچہ دیا وہ کتا تھا۔اب اس میں کوئی شک نہیں کہ بھینس کا کٹا دینا ایک معمولی بات ہے۔بھینسیں کئے بھی دیتی ہیں اور کٹیاں بھی دیتی ہیں۔اس میں تو کوئی بڑی بات نہیں لیکن ایک مہینہ پہلے سے بچہ کو بتا دینا کہ یہ بھینس کٹا دے گی یہ بڑی بات ہے۔ایک دن پہلے بھی سوائے خدا کے اور کوئی بتا نہیں سکتا۔خدا تعالیٰ وحی کے ذریعہ بتاتا ہے اور جہاں تک میر اعلم ہے اور میرا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ میرا علم کامل ہے۔ساری دنیا میں خدا کی صفات کے جو جلوے ہیں انسان ان کا احاطہ نہیں کر سکتا لیکن جتنا علم انسان کو دیا جاتا ہے وہ بھی بڑا دلچسپ ہے کہ صرف خدا تعالیٰ کی وحی شہد کی مکھی کو پہلے بتادیتی ہے کہ تیرے انڈے میں نر نکلے گا یا مادہ نکلے گی۔اس لئے اس نے اپنے چھتے میں مختلف جگہیں بنائی ہوئی ہوتی ہیں۔اگر نر نکلنا ہو تو ایک اور جگہ جا کر رکھتی ہے اور اگر مادہ نکلنی ہو تو اور جگہ رکھتی ہے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اولی رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ یہ بھی وحی کا ایک حصہ ہے۔پس خدا تعالیٰ تو ایک ایسی پیار کرنے والی ہستی ہے ایسی حسن و احسان کی حامل ہستی ہے جو شہد کی مکھی پر بھی قرآن کریم کی اصطلاح میں وحی کے ذریعہ اپنے پیار کا اظہار کر گئی تو پھر انسان سے وہ کیوں پیار نہ کرے گا لیکن خدا کی آواز سننے کے لئے پہلے خدا کا بندہ بنا ضروری ہے۔(خطابات ناصر جلد دوم صفحه ۱۵۰،۱۴۹) یہ تو ایسی جاہل قومیں ہیں کہ ایک وقت میں انہوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ قرآنِ کریم تو خدا تعالیٰ کا جو کہ علام الغیوب ہے کلام ہی نہیں ہو سکتا۔بھلا وہ کیوں نہیں ہوسکتا؟ کہ جی اس میں تو یہ لکھا ہوا ہے کہ شہد کی مکھی اپنے جسم میں سے شہد بناتی ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔يَخْرُجُ مِنْ بُطُونِهَا اور پھر