انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 369 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 369

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۳۶۹ سورة الحجر صرف قوت حافظہ ہی تو نہیں دی گئی اسے دوسری قو تیں بھی عطا کی گئی ہیں۔جن میں سے ایک روحانی قوت ہے اور اس کے ذریعہ قرآن کریم کی تین اور قسم کی حفاظت بھی کی گئی ہے۔چنانچہ اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔دوسرے ایسے ائمہ اور اکابر کے ذریعہ سے جن کو ہر ایک صدی میں فہم قرآن عطا ہوا ہے۔جنہوں نے قرآن شریف کے اجمالی مقامات کی احادیث نبویہ کی مدد سے تفسیر کر کے خدا کی پاک کلام اور پاک تعلیم کو ہر ایک زمانہ میں تحریف معنوی سے محفوظ رکھا۔“ ایام الصلح روحانی خزائن جلد نمبر ۱۴ صفحه ۲۸۸) پس جہاں تک تحریف معنوی کا تعلق ہے قرآن کریم کو معنوی تحریف سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے مقربین کا ایک سلسلہ امت محمدیہ میں جاری کیا۔یہ مقتربینِ الہی پہلی صدی سے لے کر آج تک ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں ہر صدی میں موجود رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ مسلمانوں پر فیج اعوج یعنی انتہائی تنزل کا جو زمانہ آیا تھا اس میں بھی اللہ تعالیٰ کے مطہر بندوں کی جماعت سمندر کی لہروں کی طرح موجیں مار رہی تھی۔تاہم مسلمان کہلانے والوں کی اکثریت اسلام سے دُور جارہی تھی اور قرآن کریم کو مہجور بنا چکی تھی۔قرآن کریم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ قرآن کریم ہے اور کتاب مکنون میں ہے اور پھر اس حصہ کے متعلق فرما يالا يَمَسُّةٌ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة :۸۰) اس حصہ تک صرف پاکیزہ لوگوں یا جماعتوں کی پہنچ ہوتی ہے اور یہ واقعہ اور حقیقت کہ قرآن عظیم غیر متناہی بطون اور اسرار کا مالک ہے۔دنیا پر اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ قرآن کریم منجانب اللہ ہے۔اللہ تعالیٰ قرآنی ہدایت کے ذریعہ قیامت تک لوگوں کی ربوبیت اور تربیت کرنا چاہتا ہے۔چنانچہ قرآنی ہدایت اور اس کے انوار کو دنیا میں پھیلانے کے لئے ان پاک اور مطہر بندوں کا گروہ ہمیں تین روحانی لشکروں میں تقسیم نظر آتا ہے۔ایک وہ اکابر اور آئمہ دین ہیں جنہوں نے قرآن کریم کی تفسیر کو تحریف معنوی سے بچایا لیکن اسلام پر ایک تیسرا حملہ فلسفیوں (اہل عقل ) کی طرف سے ہوا۔اسلام کی تعلیم کے خلاف عقلی دلائل پیش کر کے وہ دنیا کو بہکانے کی کوشش کرتے رہے۔انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ قرآنی تعلیم اور انسانی عقل میں نعوذ باللہ تضاد پایا جاتا