انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 368 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 368

تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث ۳۶۸ سورة الحجر اللہ تعالیٰ نے انسان کی قوت حافظہ کو قرآن کریم کی حفاظت لفظی کے لئے خدمت پر لگا دیا۔گزشتہ چودہ صدیوں میں لاکھوں حفاظ پیدا ہوئے جنہوں نے قرآن کریم کو تحریف لفظی سے محفوظ رکھا۔قرآن کریم کے الفاظ میں تحریف کرنے کی کسی کو جرات نہ ہو سکی۔ان لوگوں کو ایسا حافظہ دیا گیا کہ جس کی دوسری قوموں میں مثال نہیں ملتی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس قسم کے حفاظ پیدا ہوتے رہے اور اب بھی پیدا ہورہے ہیں کہ اگر آپ قرآن کریم کا کوئی لفظ ان کے سامنے رکھیں تو وہ اس لفظ یا آیت کا سیاق وسباق تک بتا دیتے ہیں گویا کہ سارے کا سارا قرآن کریم ہر وقت ان کی آنکھوں کے سامنے اور ذہن میں مستحضر رہتا ہے۔پس اس کثیر فوج کی موجودگی میں جو ہر صدی میں لاکھوں کی تعداد میں تھی کسی معاند اور مخالف اسلام کو یہ جرات نہ ہوئی کہ وہ قرآن کریم میں تحریف لفظی کر سکے اور نہ ہی مسلمانوں میں سے کسی غافل یا نا سمجھ آدمی کو یہ جرات ہوئی کہ وہ قرآن کریم میں کوئی لفظی تحریف کر سکے۔بعض نا سمجھ لوگوں نے بعض دوسری قسم کی حرکتیں کیں۔جو ہماری مذہبی کتابوں میں اور اسلامی لٹریچر میں محفوظ ہیں۔یہ آج کی باتیں نہیں بلکہ صدیوں پرانی باتیں ہیں کہ بادشاہوں کو خوش کرنے کے لئے بعض لوگوں نے احادیث وضع کرلیں جنہیں ہماری اصطلاح میں وضعی حدیثیں کہتے ہیں لیکن قرآن کریم کے نزول سے لے کر آج تک کسی شخص نے کامیابی کے ساتھ کوئی قرآنی آیت وضع نہیں کی۔انسان کی بنائی ہوئی کوئی ایسی آیت نظر نہیں آتی۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت شان کے باوجود انسانی دماغ نے آپ کی طرف غلط روایتیں منسوب کرنے کی جرات تو کر لی لیکن حفاظ کے ذریعہ قرآن کریم کی لفظی حفاظت کا یہ کمال تھا کہ امت محمدیہ کے اندر اور باہر کوئی شخص قرآن کریم کی طرف غلط آیت منسوب کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔اگر دشمنانِ اسلام نے کبھی کوئی جرات کی بھی تو لاکھوں کی تعداد میں حفاظ کی یہ فوج فوراً گرفت کرتی تھی کہ یہ تم کیا کر رہے ہو۔بہر حال تحریف لفظی کی ایسی کامیاب جرات کہ جسے دنیا میں پھیلایا جاتا ہو نظر نہیں آتی۔پس ایک تو قرآن کریم کی لفظی حفاظت کا سوال تھا جسے انسان کی قوت حافظہ کے ذریعہ حل کیا گیا۔اللہ تعالیٰ نے لاکھوں حفاظ کے ذریعہ قرآن کریم کی لفظی حفاظت کے سامان پیدا کر دیئے لیکن انسان کو