انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 331
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ٣٣١ سورة يوسف اپنے رب کو یاد کر رہا ہو۔تمام لوگ اپنے تمام اعمال محض خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر بجالاتے ہوں۔تو ایسا معاشرہ یقیناً جنت کا معاشرہ ہے۔جس میں کوئی شخص کسی دوسرے کو دکھ دینے کا باعث نہیں بنتا۔ہر شخص کو جسمانی اور روحانی دونوں قسم کا سکون حاصل ہوتا ہے۔ط خطبات ناصر جلد اول صفحه ۱۱۶،۱۱۵) آیت ۹۳ قَالَ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللهُ لَكُمْ وَهُوَ ارحم الرحمين مجھے کئی دفعہ موقع ملا ہے یورپ میں جانے کا۔اور چوٹی کے دماغوں سے بات کرنے کا۔میں ان کو ہمیشہ ہی اس بات کے منوانے میں کامیاب ہوا ہوں کہ تم اندھیرے میں ہاتھ پاؤں ماررہے ہو، نہ تم اپنے مسائل کو سمجھتے ہو نہ ان کا حل تمہیں معلوم ہے جو شخص مسئلہ ہی نہیں سمجھے گا حل کیسے اس کو پتا لگے گا۔مثلاً میں نے ان کو کنونس (Convince) کیا۔انہوں نے مانا کہ یہ بات درست ہے کہ ہمارا مزدور اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے سٹرائیک کرتا ہے لیکن اس بیچارے کو یہ نہیں پتا کہ میرا حق کیا ہے تو اپنے جس حق کا اسے علم ہی نہیں اس حق کے لئے وہ سٹرائیک کر رہا ہے؟ تو بڑا عظیم ہے یہ مذہب، یہ تعلیم، یہ قرآن جو ہے یہ واقع میں قرآن عظیم ہے۔زمانہ بدل رہا ہے۔انسانی زندگی حرکت میں ہے ایک جگہ کھڑی نہیں ہوئی۔جو معاشرہ آج سے چار سو سال پہلے تھا اس میں بڑی تبدیلیاں آگئیں۔انقلابی تبدیلیاں آگئیں۔عظیم انقلاب بپا ہو گئے۔زرعی انقلاب صنعتی انقلاب۔یہ انقلاب وہ انقلاب، پس بہت سی انقلابی تبدیلیاں ان کے اندر پیدا ہو گئیں اور انقلابی تبدیلیاں معاشرہ میں پیدا ہونے سے انقلابی مسائل پیدا ہو گئے اور دوصدیوں سے وہ مسائل حل کرنے کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور حل نہیں کر سکے۔پھر بھی یہ دعویٰ کہ ہم تو بہت مہذب ہیں۔ساری دنیا پر حکومت کرنے کا ہمیں حق ہے۔میں نے کہا ، ابھی تک اپنے بھائی کو معاف کرنا تم نے نہیں سیکھا۔جرمنی میں میں نے کہا تم دو عالمگیر جنگیں لڑ چکے ہو۔جرمن اور اس کے ساتھی ایک طرف تھے اور امریکہ اور روس اور ان کے ساتھی دوسری طرف۔میں نے کہا جب جنگ ہوتی ہے تو ایک نے بہر حال ہارنا ہے۔اتفاق ہوا دونوں دفعہ تم ہارے تمہیں معاف نہیں کیا انہوں نے۔اتنا ظلم کیا ان لوگوں نے کہ حد نہیں۔وہ اچھی طرح ان کو یاد