انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 295 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 295

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۹۵ سورة يونس کے حق میں اللہ تعالیٰ کے وہ وعدے اور بشارتیں پوری ہوتی ہیں جو امت مسلمہ کو دی گئی ہیں جو ہر اُس شخص کو دی گئی ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنے آپ کو منسوب کرتا اور قرآن کریم کا جوا اپنی گردن پر رکھتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے نزول کے لئے اتباع وحی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صبر اور استقامت نہایت ضروری ہے جو شخص صبر میں کمزوری دکھاتا ہے استقامت یعنی ثبات قدم میں کمزور ہوتا ہے یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو شریعت نازل ہوئی ہے اس کی اتباع صحیح طور پر اور صحیح رنگ میں نہیں کرتا اللہ تعالیٰ سے مد نہیں چاہتا استغفار نہیں کرتا اور خود کو کمزور پا کر اپنے رب کی قوت کا سہارا نہیں لیتا اور اپنی محبت میں اس قدر وفا کا نمونہ نہیں دکھاتا جو دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈالنے والا ہواس کے حق میں اللہ تعالیٰ کا حکم جو وعدہ کے رنگ میں اسے دیا گیا ہے نازل نہیں ہوتا اور بشارتیں پوری نہیں ہوتیں لیکن جو صبر کا نمونہ دکھاتا ہے اور کامل اتباع اور کامل اطاعت کا نمونہ دکھاتا ہے اور سچے طور پر مستقیم بن جاتا ہے اور کسی صورت میں بھی استقامت کو ہاتھ سے نہیں چھوڑتا اس کے حق میں اللہ تعالیٰ کے وعدے پورے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بشارتیں عملی رنگ میں اس کی زندگی میں پوری ہو جاتی ہیں اور اس دنیا میں بھی اس کے لئے ایک جنت پیدا کی جاتی ہے جس کا وہ احساس رکھتا ہے اور جس کی لذت اور جس کی مسرت سے وہ محظوظ ہوتا ہے۔ہم سے بھی اللہ تعالیٰ نے ایک وعدہ کیا ہے اور وہ وعدہ یہ ہے کہ اگر ہم قرآن کریم کی شریعت کی کامل اتباع کریں گے اور اخلاص کے ساتھ اسلام پر عمل پیرا ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ساری دنیا میں اسلام کو پر غالب کرے گا۔اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے اگر ہم یہ خواہش رکھتے ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہمارے حق میں، ہماری زندگیوں میں اور ہماری نسل میں پورا ہوتو ہم پر یہ فرض ہے کہ ہم صبر کا وہ نمونہ دکھا ئیں جو ہم سے پہلوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں دکھایا اور ہم مستقیم بن جائیں ، ہم استقامت پر کھڑے ہونے والے بن جائیں، ہم کسی صورت میں کسی مصیبت کے وقت کسی دکھ کے وقت، کسی ابتلاء کے وقت، کسی آزمائش کے وقت، کسی طوفان کے وقت اور ساری دنیا کے حملوں کے اوقات میں اپنے خدا کے دامن کو نہ چھوڑیں۔حتٰی يَحْكُم الله اس وقت تک جب خدا کا حکم نازل ہو جائے۔اگر ہم اس مقام کو حاصل کر لیں تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے هُوَ خَيْرُ الحكمين وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے