انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 246
۲۴۶ سورة التوبة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث حالات میں وہ سمجھتے ہیں کہ اگر پہلے وہ جماعتی نظام کے دباؤ کے نیچے مجبور ہو کر خدا کی راہ میں مالی قربانی دیتے تھے تو اب بچاؤ کی ایک صورت پیدا ہو گئی ہے چنانچہ وہ اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس قسم کے جو لوگ ہیں، انہیں یہ یادرکھنا چاہیے کہ الہی سلسلوں پر گردشیں تو آتی ہی رہتی ہیں لیکن مومن کے اوپر جب گردش آئے تو یہ اس کو امتحان سمجھتا ہے اور فرسٹ ڈویثرن یعنی اول آنے کی کوشش کرتا ہے اور جو منافق ہوتا ہے وہ اس کو قربانی سے بچنے کا ایک حیلہ بناتا ہے مگر حقیقی معنوں میں روحانی طور پر وہ خود اس بڑی گردش میں جو اس کو اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی نقصان پہنچانے والی ہوتی ہے مبتلا ہو جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا گردش تو آئے گی مگر ساتھ ہی تم بھی اس کی لپیٹ میں آؤ گے مومن جب اس گردش کے گرد و غبار سے اپنا سر باہر نکالے گا تو اس کا رب اسے زیادہ حسین پائے گا لیکن تم جب اس کے گردوغبار سے سر نکالو گے تو شیطان تمہیں زیادہ قریب پائے گا۔اس لئے بڑی گردش تو در حقیقت تم پر آئے گی۔مومن کے اوپر ان گردشوں کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔عَلَيْهِمْ دَابِرَةُ السَّوء کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ۔میں آج تلاوت کر رہا تھا تو اس آیت کے ایک معنی میری سمجھ میں یہ آئے کہ یہ منافق سمجھتے نہیں۔گردش انہی کے اوپر آ کر پڑتی ہے۔اس سے نقصان انہی کو ہوتا ہے۔جو لوگ حقیقی مومن ہوتے ہیں ان کو تو اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آسمانی گردش کے بداثرات منافق پر پڑتے ہیں اور یہ اس لئے پڑتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سمیع بھی ہے اور علیم بھی ہے وہ ان کے زبانی دعووں کو بھی سنتا اور جانتا ہے اور ان کے دلی خیالات سے بھی واقف ہے ان کے زبانی دعووں اور دلی خیالات میں جو تضاد پایا جاتا ہے، وہی ان کی ہلاکت کا موجب بنتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے اس تضاد کو جانتا ہے اس واسطے عَلَيْهِمْ دَابِرَةُ السوء کی رو سے بڑی گردش میں وہی مبتلا ہوں گے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ الہی سلسلوں میں اکثریت ان لوگوں کی ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھی ایمان لاتے ہیں یعنی خدا اور اس کے رسول پر ان کا ایمان بڑا پختہ ہوتا ہے اور وہ آخرت کی زندگی کو سنوارنے کے لئے بڑی قربانیاں دیتے ہیں اور اس دُنیوی زندگی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اُسوہ حسنہ پر چلتے ہیں اور خدا کی راہ میں جو مال