انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 245
۲۴۵ سورة التوبة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث پتھر کی طرح سخت ہوتا ہے اس کے دل کو نرم کرنے کے لئے وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ پر عمل کرنا پڑے گا کسی کے متعلق فرمایا کہ ان کے کان بہرے یا ان کے کانوں میں نقل اور بوجھ ہے۔یا کسی کے متعلق فرما یا وہ اندھے ہیں۔اُن کی آنکھیں نہیں۔پس جس شخص کا کفر یا نفاق اندھے آدمی کے مشابہ ہے۔پہلے اس کی بینائی کی فکر کرنی پڑے گی۔یعنی وہ طریق اختیار کرنا پڑے گا جس کی اسلام نے ہمیں تعلیم دی ہے جو آدمی سنتا نہیں اسکے سامنے وہ تعلیم پیش کرنی پڑے گی جو قرآن کریم نے یہ کہہ کر ہمارے سامنے رکھی ہے کہ جو نہیں سنتے اُن کے سامنے یہ تعلیم رکھو۔( خطبات ناصر جلد چہارم صفحه ۲۴۵ تا ۲۴۹) آیت ۹۹٬۹۸ وَ مِنَ الْأَعْرَابِ مَنْ يَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ مَغْرَمًا وَ۔يَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَابِرَ عَلَيْهِمْ دَابِرَةُ السَّوْءِ وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ وَ مِنَ الْأَعْرَابِ مَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ قُربتِ عِندَ اللهِ وَصَلَوتِ الرَّسُولِ اَلَا إِنَّهَا قُربَةٌ لَهُمْ سَيُدخِلُهُمُ اللَّهُ فِي رَحْمَتِهِ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمُ۔سورہ تو بہ کے شروع میں منافقوں کا ذکر ہے پھر منافقوں کے متعلق بہت ساری باتوں کے ذکر کے بعد ( جن کا بیان کرنا میرے اس مضمون کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا ) اللہ تعالیٰ ان آیات میں جن کی میں نے تلاوت کی ہے فرماتا ہے کہ اعراب یعنی دیہاتوں میں رہنے والے لوگوں میں سے بھی بعض منافق ہوتے ہیں۔اصل مضمون یہ نہیں کہ دیہات میں رہنے والے منافق ہوتے ہیں بلکہ اس سے مراد نفاق کی ایک علامت ہے جس کا یہاں ذکر ہو رہا ہے اور اس سے دونوں قسم کے منافق ہیں یعنی دیہاتی بھی اور شہری بھی۔دیہات میں بھی جہالت کی وجہ سے کمزور ایمان والے یا منافقت رکھنے والے پائے جاتے ہیں کیونکہ منافقت کی اجارہ داری شہروں نے تو نہیں لی ہوئی۔منافق ہر جگہ ہوتا ہے۔غرض منافق اور کمزور ایمان والے آدمی کو تو بہانہ چاہیے۔قرآن کریم نے ان کی اسی ذہنیت کی طرف اشارہ کیا ہے۔فرماتا ہے يَتَرَبَّصُ بِكُمُ اللوَاہر ایسے لوگ گردشوں کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں ایک تو اس لئے کہ باتیں بنانے اور اعتراض کرنے کا موقع ملے اور دوسرے اس لئے بھی کہ ان کے دلوں میں جو مخالفت کا پہلو ہے اس کی تسلی کے سامان پیدا ہو جا ئیں اور زیادہ تر اس لئے بھی کہ ایسے