انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 224
تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث ۲۲۴ سورة التوبة تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ اَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُم جَمِيعًا بِالَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَ ص الْأَرْضِ لَا إِلَهَ إِلا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ فَامِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْاقِ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَ كَلِمَتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (الاعراف: ۱۵۹) اس آیت میں ایمان باللہ اور ایمان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے۔ایمان تو من اللهین پر بھی لانا ہے دوسری جگہ رُسل پر بھی ایمان لانے کا ذکر ہے لیکن ان انبیاء اور رسل میں سے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منتخب کر کے نمایاں طور پر ہمارے سامنے پیش کیا اور کہا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ضروری ہے۔سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ (البقرة : ۴) کہ الغیب پر ایمان لانا ضروری ہے۔سورۃ اعراف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ هُمْ بِايَتِنَا يُؤْمِنُونَ (الاعراف: ۱۵۷) بِأَيْتِ الله ایمان لانا ضروری قرار دیا ہے اور سورہ نحل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ مَثَلُ السَّوء۔(النحل :۶۱) یہاں یہ حکم دیا گیا ہے کہ آخرت پر ایمان لانا ضروری ہے یہ میں آگے جا کر بتاؤں گا کہ یومِ آخر اور آخرت میں کوئی فرق ہے یا نہیں اور اگر ہے تو کیا ہے اگر نہیں پھر تو کیوں دو مختلف طریقوں پر ان کو استعمال کیا گیا ہے؟ غرض جب اللہ تعالیٰ نے الَّذِينَ آمَنُوا کہا تو پہلا مطالبہ یہ کیا کہ وہ لوگ جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں وہ لوگ جو یوم آخر پر ایمان لاتے ہیں وہ لوگ جو ملائکہ پر ایمان لاتے ہیں۔وہ لوگ جو الکتاب پر ایمان لاتے ہیں۔وہ لوگ جو انبیاء پر ایمان لاتے ہیں وہ لوگ جو کتب سماوی پر ایمان لاتے ہیں ان کے لئے اسی طرح غیب پر ایمان لانا اور اسی طرح آخرت پر ایمان لانا اسی طرح بِآیت اللہ ایمان لانا بھی واجب قرار دیا گیا ہے۔پس امنوا میں یہ ساری چیزیں آجائیں گی۔اب جو چیز میرے نزدیک سمجھنی اور یا درکھنی ضروری ہے وہ یہ ہے کہ محض زبان سے یہ کہہ دینا کہ ہم اللہ پر ایمان لے آئے یہ کافی نہیں ہے یا محض یہ کہ دینا کہ ہم یوم آخر پر ایمان لاتے ہیں یا آخرت پر ایمان لاتے ہیں یہ کافی نہیں ہے۔محض یہ کہ دینا کہ ہم تمام رسل پر ایمان لاتے ہیں کافی نہیں ہے محض یہ کہہ دینا کہ ہم اُن تمام رسل پر جو اللہ تعالیٰ کی وحی نازل ہوتی ہے اُس پر ایمان لاتے ہیں یہ کافی نہیں ہے محض یہ کہہ دینا کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہم ایمان لاتے ہیں ( یعنی صرف زبان کا اقرار ) یہ کافی نہیں ہے محض یہ کہ دینا کہ قرآن عظیم پر ہم ایمان رکھتے ہیں یہ کافی نہیں ہے محض یہ کہہ