انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 223
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۲۲۳ سورة التوبة رحمت ہے۔رحمت بھی اپنی وسعتوں میں بہت شان رکھتی ہے کیونکہ عربی لغت میں ہر قسم کے فضل اور انعام پر رحمت کا لفظ بولا جاتا ہے۔پس یہ فرمایا کہ تم ایمان لاؤ تمہیں میری رحمت نصیب ہو جائے گی پھر بتایا کہ ایمان جو ہے وہ دوشاخوں میں آگے تقسیم ہوتا ہے ایک کا تعلق ہجرت کے ساتھ ہے اور دوسری کا تعلق مجاہدہ کے ساتھ ہے جس ایمان کا تعلق ہجرت کے ساتھ ہے وہ تقاضا اگر پورا کیا جائے تو اس کے مقابلہ میں جو انعام ملتا ہے وہ رضوانِ الہی ہے اور جس ایمان کا تعلق مجاہدہ کے ساتھ ہے اگر اس تقاضا کو پورا کیا جائے تو اس کے بدلے میں جو انعام ملتا ہے وہ جنات نعیم ہے۔میں نے بتایا ہے کہ ایمان ایک ایسا لفظ ہے جو تمام اسلامی تعلیم پر حاوی ہے اور اس کے ہمیں دو حصے کرنے پڑتے ہیں ایک وہ اعتقادات اور وہ احکام و اوامر جن پر ایمان لانا فرض قرار دیا گیا ہے اور دوسرے اللہ تعالیٰ نے بڑی تفصیل سے قرآن کریم میں یہ بیان کیا ہے کہ ایمان کے تقاضے کیا ہیں اس کے نتیجہ میں اللہ کی کونسی رحمت کے جلوے انسان دیکھتا ہے؟ اسی طرح ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ ہجرت کا صحیح مفہوم اور اس کے وسیع معنی جن معنی میں کہ اس کو قرآن کریم اور اسلام نے استعمال کیا ہے وہ کیا ہے؟ اور تیسرے ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ مجاہدہ کسے کہتے ہیں؟ پھر ہمیں سمجھ آئے گا کہ ایمان کے مقابلے میں رحمت کو اور ہجرت کے مقابلے میں رضوان کو اور مجاہدہ کے مقابلے میں جنات نعیم کو کیوں رکھا گیا ہے۔یہ مضمون تو اتنا وسیع ہے کہ اسلام کے سارے احکام سے اس کا تعلق ہے لیکن میں اس کا جو پہلا حصہ ہے اُسے ایک خاص مقصد کے پیش نظر تفصیل سے بیان کرنا چاہتا ہوں اور وہ ایمان کا یہ حصہ ہے کہ کن پر اور کس پر ایمان لانے کا حکم ہے جب خالی ایمان امَنُوا یا امِنُوا يا يُؤْمِنُونَ استعمال ہو تو اس میں ہر اُس چیز پر ایمان لانے کی طرف اشارہ ہوتا ہے جس کا ذکر قرآن کریم کی کسی دوسری جگہ فرمایا ہے۔قرآن کریم پر جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس نے ایمان کے لفظ کو ( یعنی جن چیزوں پر ایمان لانا ہے ) مختلف آیات میں بیان کیا ہے اور وہ یہ ہیں۔سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَكَةِ وَالْكِتَبِ وَالنَّبِينَ (البقرة : ۱۷۸) فرمایا کہ مومنوں کو اللہ پر ایمان لانا چاہیے، یوم آخر پر ایمان لانا چاہیے، ملائکہ پر ایمان لانا چاہیے، الکتاب پر ایمان لانا چاہیے اور انبیاء پر ایمان لانا چاہیے۔پانچ چیزوں کا یہاں ذکر ہے سورۃ اعراف میں اللہ