انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 214
تفسیر حضرت خلیفة السبع الثالث ۲۱۴ سورة الانفال نے لکھا کہ سارے پاکستان میں جہاں آپ کی مرضی ہو بھجوا دیں۔ہم سفر کرنے کے لئے تیار ہیں تو ایسے مومن بھی مجاہدین میں شامل ہیں۔پس خدا تعالیٰ کی راہ میں سفر کرنے کو بھی اللہ تعالیٰ نے مجاہدہ کی ایک قسم قرار دیا ہے۔ساتویں اور مجاہدہ کی سب سے اہم قسم جَاهِدُهُم بِہ جِهَادًا كبيرًا (الفرقان: ۵۳) میں بیان کی گئی ہے۔یعنی قرآن کریم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے دین کی راہوں میں جہاد کرنا اور اصولی طور پر یہ جہاد دو شکلوں میں کیا جاتا ہے۔ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اتنے زبر دست اور اتنی کثرت سے دلائل جمع کر دیئے ہیں کہ دنیا کا کوئی باطل عقیدہ خواہ کسی مذہب سے ہی تعلق کیوں نہ رکھتا ہو ان کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا۔تو عقائد باطلہ کا (خواہ وہ عقائد باطلہ عیسائیوں کے ہوں یا آریوں کے یا سکھوں کے یاد ہریوں کے یا دوسرے بد مذاہب کے ہوں) دلائل حقہ کے ساتھ مقابلہ کرنا بھی ایک زبردست جہاد ہے جس کے نتیجہ میں اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو تو انسان اس کی رحمتوں کا وارث بنتا ہے۔اور دوسرے جَاهِدُهُم بِهِ جِهَادًا كبيرًا (الفرقان: ۵۳) تعلیم قرآن کو عام کرنے سے یہ جہاد کیا جاتا ہے کیونکہ مومنوں کی جماعت میں علوم قرآنیہ کو ترویج دینا۔ان کے دلوں میں قرآن کریم کی محبت پیدا کرنا اور ان کو اس حق الیقین پر قائم کرنا کہ قرآن کریم بڑی برکتوں والی عظیم کتاب ہے اس سے جتنا پیار ہو سکتا ہے کرو۔اس سے جتنی محبت تم کر سکتے ہو کرو تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے زیادہ سے زیادہ وارث بنو۔تو یہ بھی ایک مجاہدہ ہے اور اسی مجاہدہ اور جہاد کی طرف اس وقت میں بار بار جماعت کے دوستوں کو متوجہ کر رہا ہوں۔خطبات ناصر جلد اوّل صفحه ۴۴۳ تا ۴۴۸)