انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 213 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 213

۲۱۳ سورة الانفال تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث لاکھوں مسلمان ایسا ہے جسے میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ امن کی حالت میں کافروں نے بڑی بے دردی کے ساتھ قتل کیا۔جیسا کہ ہماری تاریخ میں صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کو کابل میں پکڑا گیا۔وہ بے گناہ، بے بس اور کمزور تھے۔حکومت کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔حکومت نے خدا تعالیٰ کے فرمان کے خلاف، اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو مول لیتے ہوئے ان کو پکڑا اور قتل کر دیا۔اور بڑی بے دردی سے قتل کیا۔تو ایک شکل مجاہدہ یا جہاد فی سبیل اللہ کی یہ ہے کہ انسان ایسے وقت میں اپنی جان قربان کر دیتا ہے اور کمزوری نہیں دکھاتا۔صداقت سے منہ نہیں موڑتا۔دشمن کہتے ہیں کہ تم تو بہ کر لو تو ہم تمہیں چھوڑ دیں گے وہ کہتا ہے کہ کس چیز سے تو بہ؟؟ تو بہ کر کے حق کو چھوڑ دوں!! صداقت سے منہ پھیروں !!! اور باطل کی طرف آ جاؤں !!! ایسا مجھ سے نہیں ہو سکتا!! مرنا آج بھی ہے اور کل بھی۔تمہارا جی چاہتا ہے تو مار دو۔لیکن میں صداقت کو نہیں چھوڑ سکتا۔پانچویں شکل مجاہدہ کی جو قرآن کریم میں بیان ہوئی ہے وہ ہجرت فی سبیل اللہ ہے۔اس کی تفصیل کو میں اس وقت چھوڑتا ہوں۔چھٹی شکل اللہ تعالیٰ نے جو مجاہدہ فی سبیل کی بتائی ہے وہ ہے خدا کے دین کی خاطر اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے انسان سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرے۔سفر میں بہر حال ویسا آرام نہیں مل سکتا جیسا کہ اپنے گھر میں ملتا ہے۔بعض لوگ سفر سے گھبراتے ہیں۔بعض لوگ بار بار سفر کرنے سے گھبراتے ہیں۔تو ہمارے مربی ، معلم اور انسپکٹر صاحبان کو جو سال کے چھ سات ماہ سفر میں رہتے ہیں خوش ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بھی اپنی راہ میں مجاہدہ قرار دیا ہے۔اور اس کی جو برکات ایک مجاہد پر نازل ہوتی ہیں یہ لوگ بھی اس کے وارث ہیں۔جیسا کہ فرمایا يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ الله (النساء : ۹۵) اگر چہ اس آیت میں اپنی کانٹیکسٹ (Context) کے لحاظ سے یعنی اس مضمون کے لحاظ سے جو اس آیت میں بیان ہوا ہے۔یہ سفر جنگ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔لیکن جنگ کرنے کا ثواب علیحدہ ہے۔اور اِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللہ کا ثواب علیحدہ یہاں بتایا گیا ہے۔اسی طرح اِنْفِرُوا فِي سَبِيلِ اللهِ ( التوبة : ۳۸) ہے۔تو بہت دفعہ خدا کی راہ میں سفر کرنا پڑتا ہے۔مثلاً وقف عارضی میں وقف کرنے والوں کو میں نے یہی کہا تھا کہ تم بتاؤ کہ تم کتنا سفر کر سکتے ہو؟ اس کے جواب میں بعض دوستوں نے لکھا کہ ہم اپنے خرچ پر پندرہ میں میل سفر کر سکتے ہیں بعض نے لکھا کہ ہم پچاس ساٹھ میل سفر کر سکتے ہیں۔بعض نے لکھا کہ ہم سو ڈیڑھ سو میل سفر کر سکتے ہیں۔بعض