انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 209 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 209

تفسیر حضرت خلیفہ امسیح الثالث ۲۰۹ سورة الانفال ہو کہ اللہ تعالیٰ تم سے رحمت کا سلوک کرے گا۔لیکن اگر تم ایسا کر لو تو ابھی صرف یہ ایک امید ہے۔ابھی واقع نہیں۔جب تک اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو۔اور جب اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو جائے تو یہ امید حقیقت بن جاتی ہے۔مجاہدہ کے معنی کو جب ہم قرآن کریم کی دوسری آیات کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مندرجہ ذیل باتوں کو جہاد یا مجاہدہ میں شامل کیا ہے۔اور یہاں میری مراد مجاہدہ سے نیکیوں کا اختیار کرنا ہے۔جو مجاہدہ کا ایک پہلو ہے۔بدیوں کو چھوڑ نا دوسرا پہلو ہے مگر میں اس وقت پہلے حصہ کے متعلق ہی بیان کر رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ سورۃ انفال میں فرماتا ہے: وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَ جَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ اووا و نَصَرُوا أُولَبِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا - اس آیت میں مجاہدہ کی مندرجہ ذیل قسمیں بیان کی گئی ہیں :۔(۱) ایک مجاہدہ ہے جو ہجرت کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ایک تو وہ بڑی ہجرت ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے کی اور ایک وقت آنے پر آپ نے فرمایا کہ اب اس قسم کی ہجرت نہیں رہی۔پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے اور خدا تعالیٰ کی توحید کے قیام کے لئے کوشش کرتے تھے۔اور خدائے واحد کی صفات کو بلند آواز سے لوگوں تک پہنچاتے تھے۔پھر کچھ لوگ آپ کے ساتھ شامل ہوئے اور اہل مکہ نے اور ان لوگوں نے جو مکہ کے گر در ہنے والے تھے اتنے دکھ اور ایذائیں اس چھوٹے سے گروہ کو دیں کہ دنیا کے تختہ پر دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسا گروہ نہیں ہے کہ جس کو اتنا لمبا عرصہ اس قسم کی شدید تکالیف اور ایذاؤں میں سے گزرنا پڑا ہو۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کا امتحان ایک اور طرح سے لینا چاہا۔وہ یوں کہ حکم دیا ہمیشہ کے لئے اپنے گھروں کو چھوڑ دو اور اپنے رشتہ داروں کو جو مسلمان نہیں ہیں ہمیشہ کے لئے چھوڑ دو۔اور اس ماحول کو بھی جس میں تم رہتے ہو ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر دوسری جگہ (مدینہ ) چلے جاؤ۔چونکہ کچھ عرصہ بعد تک بھی حالات ویسے ہی رہے اس لئے یہ ہجرت قائم رہی لیکن اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چونکہ اس قسم کی ہجرت کا ماحول اب نہیں رہا اس لئے اب اس قسم