انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 208 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 208

۲۰۸ سورة الانفال تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث گی تو آپ پر مضمون واضح ہو جائے گا۔دوسری آیت میں ہے کہ ایک گروہ ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کے متعلق فرمایا کہ خدا تعالیٰ ان کی وہ کوششیں جو خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کے لئے بظاہر نظر آتی ہیں، قبول نہیں کرے گا۔ان کے صدقات قبول نہیں کئے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ ان کے لئے عذاب کا سامان پیدا کرے گا اور ہیں وہ انفاق فی سبیل اللہ کرنے والے اور نماز ادا کرنے والے۔یہ وہ گروہ ہے جن کے متعلق خدا کہتا ہے کہ ان کی قرب الہی کی کوششیں قبول نہیں ہوں گی۔خدا تعالیٰ ان کے لئے عذاب پیدا کرے گا۔بظاہر وہ خرچ بھی کرتے ہیں اور نمازیں بھی پڑھتے ہیں۔مومن بھی ہیں اور کفر اللہ بھی کر رہے ہیں اور رسول کا بھی کفر کر رہے ہیں۔وَمَا مَنَعَهُمْ أَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَتُهُمْ إِلَّا أَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ وَلَا يَأْتُونَ الصَّلوةَ إلَّا وَهُمْ كَسَالی (التوبة:۵۴) نماز پڑھتے ہیں مگر ٹھونگے مارتے ہیں یعنی شرائط اس کی قائم نہیں کرتے۔ان کے دل میں خدا تعالیٰ کا پیار نہیں۔وہ جو عاجزی کی کیفیت دل اور دماغ اور روح میں پیدا ہونی چاہیئے وہ نہیں۔وہ خدا تعالیٰ کو ہی حاکم اور دیا ل نہیں سمجھتے بلکہ نماز بھی پڑھتے ہیں اور قبروں پر مثلاً سجدہ بھی کر لیتے ہیں جاکے اور پیروں کی پرستش بھی کرتے ہیں۔اس قسم کی نماز پڑھنے والے ہیں۔وَلَا يُنْفِقُونَ إِلَّا وَهُمْ كَرِهُونَ۔دیتے تو ہیں مگر نفرت کے ساتھ دیتے ہیں۔بشاشت کوئی نہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہوں نے ایمان کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا۔ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ خرچ کرے اور بشاشت سے خرچ کرے کراہت سے خرچ نہ کرے۔ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ نماز پڑھے اور نماز کو شرائط کے ساتھ قائم کرے۔یہ نہیں کہ کسالی۔مثلاً آگئے دوڑ کے ادھر ادھر دیکھ لیا اچھا کسی کی نظر مجھ پر پڑی ہے مجھے پھر نماز پڑھنی پڑے گی تو آگئے اور ظاہر میں ٹھونگے بھی مار لئے۔ایمان کا دعویٰ بھی ہے اور عملاً کفر باللہ اور کفر بالرسول بھی ہے اور ساتھ یہ دعویٰ بھی ہے یہ ہے ہی منافقوں کے متعلق۔ایسے کمزوروں کے متعلق جو نماز بھی پڑھتے ہیں آخر وہ ایمان کا دعوی کرنے والے ہیں نا جو آ جاتے ہیں مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے اور زکوۃ دینے کو تیار ہو جاتے ہیں۔(خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۲۰۸ تا ۲۱۲) پس فرمایا کہ مجاہدہ کرو پھر فرمایا کہ تم مجاہدہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے اس صورت میں صرف امیدوار ہو سکتے ہو ہاں اگر تم بدیوں کو چھوڑو نہیں اور نیکیوں کو اختیار نہ کرو تو پھر تم کس طرح امید رکھ سکتے